| 79108 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
ادارہ اپنی ہمہ جہت سرگرمیوں کیلئے لوگوں سے نفلی صدقات کے علاوہ جو زکوٰۃ اور صدقات واجبہ وصول کرتا ہے وہ دینی (مسجد و مدرسہ کے قیام و انصرام سے متعلق تمام امور) ، دعوتی (نو مسلمین کو دعوت اسلام)،فکری آگاہی (عوام الناس کیلئے مختلف موضوعات پر پروگراموں کا انعقاد) ،مختلف موضوعات پردعوتی اور فکری لٹریچرکی اشاعت،رفاہی (نومسلمین کی کفالت اور عمومی رفاہی سرگرمیاں) اور دیگر انتظامی اخراجات (ملازمین کی تنخواہیں ،دفتری اخراجات مثلاکرایہ،یوٹیلٹی بلز، ضروری سامان کی خریداری، مہمانوں کااکرام،دعوتی اور فکری کاموں کے لئے سفری اخراجات وغیرہ )پر صرف کئے جاتے ہیں۔
کیا ادارہ کے لئے درج بالاتوکیل کے نظم کے تحت وصول شدہ زکوٰۃ اور صدقات واجبہ کی رقوم کو ان مصارف پر خرچ کرنا شرعی حوالے سے درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ٹرسٹ کی جانب سے زکوة کی وصولی کے لئے متعین کئے گئے مستحق کےوکیل کی جانب سے زکوة کی رقم وصول کرنے یا اس کے اکاؤنٹ میں زکوة کی رقم آجانے کے بعد دینے والے کی زکوة ادا ہوجائے گی اورچونکہ اس وکیل کو مستحقین کی طرف سے تصرف کا اختیار دیا گیا ہے،اس لئے اس رقم کو مذکورہ بالا ایسے مدات میں استعمال کیا جاسکتا ہے جن میں تملیک نہ ہونے کی وجہ سے براہِ راست زکوة کی رقم استعمال کرنا جائز نہیں۔
حوالہ جات
"الدر المختار"(2/ 344):
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) أما دين الحي الفقير فيجوز لو بأمره، ولو أذن فمات فإطلاق الكتاب يفيد عدم الجواز وهو الوجه نهر (و) لا إلى (ثمن ما) أي قن (يعتق) لعدم التمليك وهو الركن.
وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء وهل له أن يخالف أمره؟ لم أره والظاهر نعم".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ: "(قوله ثم يأمره إلخ) ويكون له ثواب الزكاة وللفقير ثواب هذه القرب بحر وفي التعبير بثم إشارة إلى أنه لو أمره أولا لا يجزئ؛ لأنه يكون وكيلا عنه في ذلك وفيه نظر؛ لأن المعتبر نية الدافع ولذا جازت وإن سماها قرضا أو هبة في الأصح كما قدمناه فافهم.
(قوله: والظاهر نعم) البحث لصاحب النهر وقال؛ لأنه مقتضى صحة التمليك قال الرحمتي: والظاهر أنه لا شبهة".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
29/جمادی الثانیہ1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


