03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جنرل پراویڈنٹ فنڈ سے رقم نکلوا کر اضافے کے ساتھ واپس کرنا
79169سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

جنرل پراویڈنٹ فنڈ (GPF) میں ملازم کو ایک سہولت یہ دی جاتی ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹ میں جمع شدہ رقم اسی فیصد (٪80) تک کسی بھی وقت لے سکتا ہے۔ اس کے لیے درخواست دینی ہوتی ہے، تین سے چار ہفتے میں منظوری آجاتی ہے اور رقم مل جاتی ہے۔ اس طرح رقم لینے کے دو طریقے ہیں، ایک قابلِ واپسی اور دوسرا ناقابلِ واپسی۔ قابلِ واپسی کی صورت میں اگر ملازم کا GPF اکاؤنٹ اگر منافع کے ساتھ (With Interest) ہوگا تو واپسی بھی منافع کے ساتھ ہوگی، یعنی لی گئی رقم سے زیادہ جمع کرانا ہوگی، البتہ یہ اضافی رقم ملازم ہی کے اکاؤنٹ میں جمع ہوگی۔ اور اگر ملازم کا GPF اکاؤنٹ بغیر منافع کے ہو تو واپسی بھی بغیر منافع کے ہوگی۔ کیا اپنے GPF اکاؤنٹ سے دورانِ ملازمت رقم نکلوانے کی صورت میں قابلِ واپسی اور ناقابلِ واپسی دونوں صورتیں اختیار کی جاسکتی ہیں یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جی ہاں، یہ دونوں صورتیں اختیار کی جاسکتی ہیں۔ نیز قابلِ واپسی صورت میں اگر ملازم کا اکاؤنٹ منافع کے ساتھ ہو تو رقم واپس کرتے وقت جو اضافہ لیا جاتا ہے، وہ شرعا سود نہیں؛ کیونکہ سود دوسرے کے مال پر دیا جاتا ہے، جبکہ یہاں ملازم جو رقم لیتا ہے وہ اپنے ہی فنڈ سے لیتا ہے، نیز سود دوسرے کو دی جاتی ہے، اور یہاں ملازم سے جو اضافی رقم لی جاتی ہے، وہ اسی کے اکاؤنٹ میں جمع ہوتی ہے اور آخر میں اس کو واپس ملتی ہے۔  

 (باستفادۃٍ من امداد الفتاوی:3/152، وجواہر الفقہ:3/290 ، وفتاویٰ عثمانی:3/308)

حوالہ جات

۔

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

     2/ رجب المرجب/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب