03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
الفقرکمپنی کا حکم
79284اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلدلال اور ایجنٹ کے احکام

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ الفقر کے نام سے ایک سسٹم شروع ہوا ہے جس کا مقصد کم پیسوں میں حلال اور جائز طریقے سے پیسے كماناہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ اس سسٹم میں شامل ہونے کے لیے پہلے 300 دے کر ممبر شپ لینی پڑتی ہے دوسرے 300 روپے ممبر شپ لینے کے کچھ عرصہ بعد دئے جاتے ہیں۔ جہاں تک پہلے تین سو روپے کی بات ہے جس سے ممبر شپ ملتی ہے یہ  تین سو روپے بطور  ہبہ بالعوض لیے جاتے ہیں اور اس 300 کے عوض الفقر اپنے کل کاروباری منافع میں سے مخصوص شرائط پر ایک حصہ منافع واھب کے لئے ہمیشہ کے لئے مقرر کر دیتا ہے شرائط کا تعلق ہبہ قبول کرنے سے ہے تاکہ الفقر یونٹ کی  طرف سے ہبہ نافذ ہو جائے۔اس کے لیے الفقر یونٹ ممبر سے پوچھتا ہے کہ  کیا آپ نے یہ رقم اس عوض پر ہمیں ہبہ کی کہ ہم آپ کو اپنے کاروبار میں سے کچھ منافع دیں گے ؟  اب الفقر چونکہ مطلق کاروباری منافع کا بطور عوض ممبر سے وعدہ کرچکا تو وه جہاں جہاں جتنے عرصے تک چاہے اس ممبر کو اپنے کاروباری منافع میں شریک کر لیتا ہے۔

نوٹ: اگرچہ ممبرز سے بطور عوض مطلق منافع پر ہبہ ہوتا ہے مگر یہ حصہ الفقرکی اپنی مرضی سے مقرر ہےاور جہاں تک دوسرے 300 روپے کی بات ہے تو وه ایک الگ معاہدہ کے تحت لیے جاتے ہیں جو پہلے ممبر شپ کے کچھ عرصہ بعد ہوتا ہے یہ ممبر کی اپنی مرضی پر ہے اور وہ یہ کہ الفقر اسے آن لائن ضروریات زندگی کی چیزیں اس کے آرڈر کے مطابق اس کے گھر پہنچائے گا  اور وہ اس کے بدلے ہوم ڈیلیوری چارجز ادا کرے گا یہ چارجز الفقر  اپنے ممبرز کی آسانی کے لیے صرف پہلے ماہ وصول کرتا ہے  بعد میں اپنے کاروباری منافع سے ہی ڈیلیوری چارجز کی ادائیگی ہوتی ہے تو ممبرز کی جیب سےوہ پیسےنہیں جاتے۔ممبر شپ لینے کے بعد ہر ممبر کے لیے الگ واٹس ایپ گروپ بنایا جاتا ہے اور ہر ممبرکا پہلاکام اپنے گروپ کا لنک شیئر کرناہوتاہے جس  سے اس کا بزنس شروع ہو جاتا ہے ۔ہر دس کلو میٹر کے علاقے میں جب ایک ہزار  ممبر مکمل ہو جائیں تووہاں الفقر یونٹ قائم کردیا جائے گااور اسی یونٹ سے روز مره کے ضروریات جب وه خریدیں گے تو اس کا نفع بھی ان  کو ملے گا۔ نیز اس کے اشیا کی قیمت بازار کی قیمت کے برابر ہو گی اور  کوالٹی میں بھی کوئی فرق نہیں ہوگا اگر کوئی شکایت ہو تو  ہیلپ لائن کے ذریعے الفقر انتظامیہ کو كمپلین کردی جائے البتہ  کم آبادی والے دیہاتی علاقوں کی تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعدبیس کلو میٹر تک  بڑھایا جائے گا یعنی کسی علاقے میں 12 کلو میٹر کسی میں  چودہ۔ اس کے حالات کے حساب سے تو بیس کلو میٹر تک اس کو بڑھایا جا سکتا ہے جب تک کسی علاقہ میں الفقر  یونٹ قائم نہ ہو تو کیا اس علاقہ کے لوگ بےروزگار رہیں گے ہرگز نہیں بلکہ الفقر یونٹ کا لنک شیئر کرکےاس کے ذریعے  جو بھی ممبر ایڈ ہوگا اور پھر اس لنک سے نیچے 8 ذیلی لائنوں تک جتنےلوگ ایڈ ہوں گے جس میں دس کروڑ لوگوں کی گنجائش ہے وہ سب اس لنک شیر کرنے والے کی ٹیم میں شمار ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یعنی صرف ایک بار نہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے الفقر  کے ایک پراجیکٹ سے نہیں بلکہ تمام پراجیکٹس سے جو بھی انكم ان کی وجہ سے الفقر کو ہوگی لنک شیر کرنے والا  تنہا طور پر شرائط و ضوابط کے مطابق دس فیصد منافع پائے گا اسی منافع پر تو ھبہ بالعوض ہواتھا۔چوں کہ الفقر یونٹ میں گروپ کا لنک شیر کرکے دوسروں کو ایڈ کرنا ہوتا ہے جس سے اس کی نیٹ ورک ماركیٹنگ کے ساتھ مشابہت لگتی ہے لیکن در حقیقت الفقر اور نیٹ ورک مارکیٹنگ میں بہت فرق ہے :

نیٹورک مارکیٹنگ میں تجارت وغیرہ اول تو ہوتی نہیں ہو بھی تو بیچی جانے والی چیزوں کی قیمت بازار سے کئی گنا مہنگی ہوتی ہے تو مقصد چیز بیچنا خریدنا نہیں ہوتا بلکہ ایک انویسمینٹ چین بنانا مقصد ہوتا ہے جبکہ الفقر میں صرف ضرورت کی چیزوں کی خریداری بازار ریٹ پر کرنی ہے وہ بھی اگر ضرورت ہے اور جتنی ضرورت ہو بلا ضرورت خریداری کی نہ اسلام اجازت دیتا ہے نہ الفقر اس کی ترغیب دیتا ہے یا اسے مشروط کرتا ہے یہ خریداری اگر کوئی ممبر کرے بھی تو صرف دو وجہ سے ایک اس کی اپنی ضرورت کہ گھر بیٹھے چیز ملنے سے بازار جانے کا وقت اور خرچہ بچے گا دوسرا بنص قرآن کہ نیکی اور تقوی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو ۔ یہ باہمی تعاون ہوگا ممبرز کا آپس میں بھی اور الفقر کے ساتھ بھی باقی اگر کوئی پھر بھی خریداری نہ کرے تو کوئی شرط نہیں اس خریداری کی۔

دوسرا نیٹورک مارکیٹنگ میں دوسروں کو کمیشن کے لالچ میں بلاضرورت خریداری پر اکسایا جاتا ہے الفقر میں ایسا کچھ نہیں۔

تیسرا فرق نیٹورک مارکیٹنگ میں دو معاہدے ہر ممبر کرتا ہے پہلا معاہدہ دوسروں کو اپنے سسٹم میں لانے بلکہ پھنسانے کے لئے طرح طرح کے جھوٹ بول کر سبز باغ دکھا کر سسٹم میں لانے کا دوسرا معاہدہ خود کمپنی پروڈکٹ خریدنے کا اور تیسرا ایک ذیلی معاہدہ بھی ہوتا ہے کہ دوسروں کو بھی کمپنی پروڈکٹ مہنگے داموں خریدنے پر مجبور کرنا یا اکسانا۔یعنی نیٹورک مارکیٹنگ کے ہر ممبر کی کئی حیثیتیں ہوتی ہیں وہ بائع بھی ہوتا ہے مشتری بھی اور کمیشن ایجینٹ بھی یہ سب معاہدے ایک دوسرے سے مشروط ہوتے ہیں جوکہ شرعا ناجائز ہیں الفقر میں ایسا کوئی مشروط معاہدہ نہیں ہوتا۔

سب سے بڑی بات کہ الفقر میں ہبہ ہے جو کہیں اور نہیں ہے اور ھبہ کے فضائل احادیث میں بکثرت وارد ہیں۔کیا اس کمپنی کا مجوزہ ماڈل درست ہے یا نہیں؟اس میں انوسٹمنٹ کرناجائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(۱)ہبہ بشرط العوض چونکہ بیع کے حکم میں ہے،لہٰذا  عوض کا معلوم اور متعین ہونا ضروری ہے ،جبکہ مجوزہ ماڈل میں عوض مبہم  ہے،اسی طرح ممبر سے پہلی مرتبہ 300 روپے نقد کی شکل میں لیے جاتے ہیں اور عوض میں بھی نقد رقم ہی طے کی گئی ہےلہٰذا  عوضین کا برابر ہونا ضروری ہے ،ورنہ سود لازم آئے گا،لہٰذا مذکورہ خرابیوں کی وجہ سے ہبہ بشرط العوض مذکورہ صورت میں درست نہیں۔

(۲)دوسری مرتبہ ۳۰۰ روپے کس چیز کے عوض لیے جارہے ہیں ،یہ بات واضح نہیں ہے، اس لیے کہ ضرورت کی اشیاءالفقر کمپنی سے آن لائن خریداری کی صورت میں،اشیاء کی قیمت اور ڈیلیوری چارجز الگ سے وصول کیے جائیں گے،اگرچہ بعد میں الفقر کمپنی اپنی صوابدید پر ڈیلیوری چارجز معاف کردیتی ہے،اس سے بظاہر یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ جیسے نیٹورک مارکیٹنگ یا ملٹی لیول مارکیٹنگ میں ممبر بننے کا مقصد دوسروں کو ممبر بنانا اور ان سے چیزیں خریدوانا اور اس عمل پر مسلسل کمیشن حاصل کرنا ہوتا ہے ،وہی مقصد یہاں بھی ہے، جیسا کہ سوال میں اس کی وضاحت بھی کی گئی ہے کہ" ممبر شپ لینے کے بعد ہر ممبر کے لیے الگ واٹس ایپ گروپ بنایا جاتا ہے اور ہر ممبرکا پہلاکام اپنے گروپ کا لنک شیئر کرناہوتاہے، جس  سے اس کا بزنس شروع ہو جاتا ہے ،ہر دس کلو میٹر کے علاقے میں جب ایک ہزار  ممبر مکمل ہو جائیں تووہاں الفقر یونٹ قائم کردیا جائے گااور اسی یونٹ سے روز مره کی ضروریات جب وه خریدیں گے تو اس کا نفع بھی ان  کو ملے گا، نیز اس کے اشیا کی قیمت بازار کی قیمت کے برابر ہو گی اور  کوالٹی میں بھی کوئی فرق نہیں ہوگا، اگر کوئی شکایت ہو تو  ہیلپ لائن کے ذریعے الفقر انتظامیہ کو كمپلین کردی جائے، البتہ  کم آبادی والے دیہاتی علاقوں کی تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعدبیس کلو میٹر تک  بڑھایا جائے گا یعنی کسی علاقے میں 12 کلو میٹر کسی میں  چودہ، اس کے حالات کے حساب سے تو بیس کلو میٹر تک اس کو بڑھایا جا سکتا ہے، جب تک کسی علاقہ میں الفقر  یونٹ قائم نہ ہو تو کیا اس علاقہ کے لوگ بےروزگار رہیں گے؟ ہرگز نہیں بلکہ الفقر یونٹ کا لنک شیئر کرکےاس کے ذریعے  جو بھی ممبر ایڈ ہوگا اور پھر اس لنک سے نیچے 8 ذیلی لائنوں تک جتنےلوگ ایڈ ہوں گے جس میں دس کروڑ لوگوں کی گنجائش ہے وہ سب اس لنک شیر کرنے والے کی ٹیم میں شمار ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یعنی صرف ایک بار نہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے الفقر  کے ایک پراجیکٹ سے نہیں بلکہ تمام پراجیکٹس سے جو بھی انكم ان کی وجہ سے الفقر کو ہوگی لنک شیر کرنے والا  تنہا طور پر شرائط و ضوابط کے مطابق دس فیصد منافع پائے گا اسی منافع پر تو ھبہ بالعوض ہواتھا۔"

(۳)ملٹی لیول مارکیٹنگ یا نیٹ ورک مارکیٹنگ اور الفقر کمپنی کے  مجوزہ ماڈل میں فرق بیان کرنے کے لیے  جو فرق بیان کیا گیا ہے وہ بھی معقول معلوم  نہیں ہوتا، اس لیے کہ اگر الفقر کمپنی کا ممبر بننے سے صرف اشیاء کی خریداری ہی مقصود ہوتی  وہ بھی بازاری قیمت پر تو  یہ مقصد تو الفقر کمپنی کا ممبر بنے  بغیر بھی بازار سے پورا ہورہا ہے،سوال میں ذکر کردہ تفصیلات سے تو یہی مترشح  ہوتا ہے کہ ممبر بننے کا  بنیادی مقصد  مزید ممبر بنانے  کا حق حاصل کرنا اور اس کے نتیجے میں مسلسل کمیشن حاصل کرنا ہی ہے،اور یہی کام ملٹی لیول مارکیٹنگ اور نیٹ ورک مارکیٹنگ میں ہورہا ہوتا ہے،لہٰذاسوال میں ذکرکردہ تفصیلات کے مطابق ہبہ بشرط العوض   کے مجوزہ طریقے کی خرابی کے علاوہ بھی  مذکورہ  طریقہ کار چار وجوہ سے ناجائز ہے۔

۱۔ملٹی لیول مارکیٹنگ اور نیٹ ورک مارکیٹنگ کی طرح مجوزہ ماڈل میں بھی ایک عقد دوسرے عقد کے ساتھ مشروط ہے جوکہ شرعاًناجائز ہے،جس کی تفصیل یہ ہےکہ مجوزہ ماڈل میں لوگوں کو چیز فروخت کروا کر کمیشن لینا اجارے (ملازمت) کے تحت آتا ہے،جسے پراڈکٹس کی خریداری کے ساتھ مشروط کر دیا جاتا ہے،لہٰذا اگر پراڈکٹس نہیں خریدی گئیں تو دوسروں کو خریداری کروا کر کمیشن کا حق بھی نہیں ہوگا،یوں ایک عقد (معاملے) میں دوسرا عقد جمع کیا جاتا ہے جو شرعاً ناجائز ہے۔

۲۔بغیر عمل کے اجرت کا ملنا یاایک ہی مرتبہ کے عمل کے نتیجے میں بار بار اجرت کا ملنا،اس کی تفصیل یہ ہے کہ  مذکورہ کاروبار میں جب کوئی شخص پہلا ممبر بناتا ہے اور وہ ممبر مزید آگے ممبرز بناتا ہے تو ان آگے والے ممبران کی لین دین میں اس شخص کا کوئی ایسا عمل نہیں ہوتا جس کا تعلق براہ راست کمپنی اور خریدار کے لین دین سے ہو، ایسی صورت میں یہ شخص جو اجرت لیتا ہے وہ بغیر کسی عمل کے ہوتی ہے،یا ابتدا میں بنائے گئے ممبر کے عمل کے نتیجے میں بار بار اجرت ملتی ہے اور ان دونوں صورتوں میں اجرت جائز نہیں ہے۔

۳۔قمار یعنی جوے کا ہونا،جس کی تفصیل یہ ہے کہ مذکورہ کاروبار میں اکثر شامل ہونے والے لوگ نیٹ ورک بنانے کے مقصد سے شامل ہوتے ہیں اورممبر بننے اور  پراڈکٹ خریدنے سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ممبران بنائیں تو ان کا کمیشن حاصل ہو، چونکہ معاملات میں مقاصد کا اعتبار ہوتا ہے لہذا یہ لوگ رقم پراڈکٹ خریدنے کے لیے نہیں بلکہ ایک ایسے کام کے لیے لگاتے ہیں جس کا ہونا یا نہ ہونا ، دونوں ممکن ہوتے ہیں، اگر کام ہو گیا (یعنی ممبر بن گئے) تو نفع ہو جائے گا اور ممبر نہ بن سکے تو یہ رقم بھی جائے گی، یہ شرعاً قمار (جوے) کے تحت آتا ہے،جوکہ ناجائز ہے۔

۴۔حق مجرد کی بیع ہونا،جس کی تفصیل یہ ہےکہ مذکورہ کاروبار میں پراڈکٹس کی خریداری کا مقصد پراڈکٹس نہیں ہوتیں بلکہ نیٹ ورکنگ کا حق حاصل کرنا ہوتا ہے، لہذا یہ نیٹ ورکنگ کے حق کی بیع ہوتی ہے، نیٹ ورکنگ کا عمل اجارہ کے تحت آتا ہے ، اس کی بیع حق اجارہ کی بیع ہے جو ایک  حق مجرد ہے اور حق مجرد کی بیع جائز نہیں ہوتی۔

جواب کا خلاصہ یہ ہوا کہ مجوزہ ماڈل میں بھی وہ تمام خرابیاں موجود ہیں جو نیٹ ورک مارکیٹنگ یا ملٹی لیول مارکیٹنگ میں ہوتی ہیں،اورنیٹ ورک مارکیٹنگ یا ملٹی لیول مارکیٹنگ کے نام سے رائج کاروبار کی مختلف اسکیمیں یا کسی اور نام سے مذکورہ کاروبار  کی طرح کی رائج اسکیمیں مذکورہ خرابیوں کی وجہ سے ناجائز ہے،لہٰذا اس طرح کی کاروباری اسکیمیں شروع کرنا یا اس کاحصہ بننا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

والهبة بشرط العوض هبة ابتداء فيشترط التقابض في العوضين وتبطل بالشيوع بيع انتهاء فترد بالعيب وخيار الرؤية وتؤخذ بالشفعة.

 تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 102)

وإذا وقعت الهبة بشرط العوض المعين فهي هبة ابتداء فيشترط التقابض في العوضين((ويبطل) العوض (بالشيوع) فيما يقسم بيع انتهاء فترد بالعيب وخيار الرؤية، وتؤخذ بالشفعة) هذا إذا قال: وهبتك على أن تعوضني كذا، أما لو قال: وهبتك بكذا، فهو بيع ابتداء وانتهاء وقيد العوض بكونه معينا؛ لأنه لو كان مجهولا بطل اشتراطه فيكون هبة ابتداء وانتهاء.

  الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 705)

 (وكذلك لو باع عبدا على أن يستخدمه البائع شهرا، أو دارا على أن يسكنها شهرا، أو على أن يقرضه المشتري دراهم، أو على أن يهدي له هدية) فالبيع فاسد۔۔۔ وقد نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن صفقتين في صفقة ونهى عن بيع وشرط عن شرطين في بيع وعن بيع وسلف وعن ربح ما لم يضمن وعن بيع ما لم يقبض وعن بيع ما ليس عند الإنسان ، أما بيع وشرط فهو أن يبيع بشرط فيه منفعة لأحد المتعاقدين وأما نهيه عن شرطين في بيع فهو أن يبيع عبدا بألف إلى سنة، أو بألف وخمسمائة إلى سنتين ولم يثبت العقد على أحدهما، أو يقول: على إن أعطيتني الثمن حالا فبألف، وإن أخرته إلى شهر فبألفين، أو أبيعك بقفيز حنطة، أو بقفيزي شعير فهذا لا يجوز. لأن الثمن مجهول عند العقد ولا يدري البائع أي الثمنين يلزم المشتري، وأما صفقتان في صفقة أن يقول: أبيعك هذا العبد بألف على أن تبيعني هذا الفرس بألف وقيل هو أن يبيع ثوبا بشرط الخياطة، أو حنطة بشرط الحمل إلى منزله فقد جعل المشتري الثمن بدلا للعين والعمل فما حاذى العين يكون بيعا وما حاذى العمل يكون إجارة فقد جمع صفقتين في صفقة۔۔۔.

(الجوهرة النيرة، 1/203، ط: المطبعة الخيرية)

وإن اشترى ثوبا على أن يخيطه البائع بعشرة فهو فاسد؛ لأنه بيع شرط فيه إجارة؛ فإنه إن كان بعض البدل بمقابلة الخياطة فهي إجارة مشروطة في بيع، وإن لم يكن بمقابلتها شيء من البدل فهي إعانة مشروطة في البيع، وذلك مفسد للعقد۔۔۔.

(المبسوط للسرخسي، 15/102، ط: دار المعرفة)

وإن سلم غلاما إلى معلم ليعلمه عملا وشرط عليه أن يحذقه فهذا فاسد؛ لأن التحذيق مجهول إذ ليس لذلك غاية معلومة وهذه جهالة تفضي إلى المنازعة بينهما، وكذلك لو شرط في ذلك أشهرا مسماة؛ لأنه يلتزم إيفاء ما لا يقدر عليه فالتحذيق ليس في وسع المعلم بل ذلك باعتبار شيء في خلقة المتعلم، ثم فيما سمي من المدة لا يدري أنه هل يقدر على أن يحذقه كما شرط أم لا والتزام تسليم ما لا يقدر عليه بعقد المعاوضة لا يجوز.

(المبسوط للسرخسي، 16/41، ط: دار المعرفة)

العبرة في العقود للمقاصد والمعاني لا للألفاظ والمباني۔۔۔ والمراد بالمقاصد والمعاني: ما يشمل المقاصد التي تعينها القرائن اللفظية التي توجد في عقد فتكسبه حكم عقد آخر كما سيأتي قريبا في انعقاد الكفالة بلفظ الحوالة، وانعقاد الحوالة بلفظ الكفالة، إذا اشترط فيها براءة المديون عن المطالبة، أو عدم براءته.

وما يشمل المقاصد العرفية المرادة للناس في اصطلاح تخاطبهم، فإنها معتبرة في تعيين جهة العقود، فقد صرح الفقهاء بأنه يحمل كلام كل إنسان على لغته وعرفه وإن خالفت لغة الشرع وعرفه: (ر: رد المحتار، من الوقف عند الكلام على قولهم: وشرط الواقف كنص الشارع) .

(شرح القواعد الفقهية، 1/55، دار القلم)

لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض).

                    (الدر المختار و حاشية ابن عابدين، 6/4، ط: دار الفكر)

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

        ۰۸رجب۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب