| 79292 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
محمد آصف نامی شخص نےایک خاتون سے شریعت کے قانون کے مطابق نکاح کیا ،اس کے بعد نہ تواپنی منکوحہ کوصریح الفاظ میں طلاق دی نہ ہی دونوں میں طلاق کا کوئی تذکرہ ہوا ،لیکن خاتون آصف سے روٹھ کر عدالت پہنچ گئی اور وہاں پہلے شوہر آصف کی طرف سے طلاق ملنے پر دوجھوٹے گواہ پیش کئے ،کہ یہ گواہان میری طلاق کی تصدیق کرتے ہیں ،اس کے بعد آصف کی منکوحہ بیوی نے کسی اور شخص سے کورٹ میرج کرلی۔
سوال یہ ہے کہ طلاق کی جھوٹی گواہی کی بنیاد پر عدالت میں ہونے والا دوسرے نکاح کا کیا حکم ہے منعقد ہوا ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کوئی شادی شدہ عورت عدالت میں اپنے مطلقہ ہونے کا دعوی دائرکرے اور اس پر دوگواہ پیش کرے ،اگر چہ دونوں گواہ جھوٹے ہوں ،پھر عدالت مقدمے کی تمام پہلو ؤںکو ملحوظ رکھتے ہوئے شرائط کے مطابق طلاق پر گواہوں کی شہادت قبول کرکے طلاق کا فیصلہ کردے تو شرعا یہ طلاق معتبر مانی جاتی ہے ،اس کے بعد عورت طلاق کی عدت گذار کر کسی دوسری جگہ نکاح کرلے تو نکاح منعقد ہوجاتا ہے ۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر عدالت نے گواہوں کی شہادت قبول کی اسکی بنیاد پر طلاق واقع ہونے کا فیصلہ دیا ،پھر عورت نے عدت گذار کر نکاح کی تمام شرائط پوری کرکے نئے مہر کے ساتھ دوشرعی گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب وقبول کیا تو دوسرا نکاح منعقد ہوا، اگر عدالت نے طلاق کا فیصلہ نہیں دیا ،یا اس عورت نے طلاق کا فیصلہ ہونے کے بعد عدت نہیں گذاری بلکہ اسی وقت نکاح کرلیا ، یاگواہوں کے سامنے ایجاب وقبول نہیں ہوا، ان تمام صورتوں میں دوسرا نکاح غیر معتبر سمجھا جائے گا ۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 52)
قضى بطلاقها بشهادة الزور مع علمها) بذلك نفذ، و (حل لها التزوج بآخر بعد العدة وحل للشاهد) زورا (تزوجها وحرمت على الأول) وعند الثاني لا تحل لهما، وعند محمد تحل للأول ما لم يدخل الثاني وهي من فروع القضاء بشهادة الزور كما سيجيء
قوله: وحل للشاهد) وكذا لغيره بالأولى لعدم علمه بحقيقة الحال (قوله: لا تحل لهما) أي للزوج المقضي عليه والزوج الثاني. أما الثاني فظاهر بناء على أن القضاء بالزور لا ينفذ باطنا عندهما، وأما الأول فلأن الفرقة، وإن لم تقع باطنا لكن قول أبي حنيفة أورث شبهة؛ ولأنه لو فعل ذلك كان زانيا عند الناس فيجدونه كذا في رسالة العلامة قاسم (قوله: ما لم يدخل الثاني) فإذا دخل بها حرمت على الأول لوجوب العدة كالمنكوحة إذا وطئت بشبهة بحر
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
١۴رجب المرجب ١۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


