| 79825.62 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری شادی کو تقریباً پانچ سال ہو گئے ہیں۔میرے سسرال والے بہت عجیب مزاج کے ہیں اور ہر وقت ہمارے گھر والوں پر اعتراضات کرتے رہتے ہیں۔میری ساس جب بھی ہماری طرف آتی ہے تو میری بیوی کو الٹی سیدھی پٹیاں پڑھا کر چلی جاتی ہے اور اس کے بعد میری گھر والی ہم لوگوں سے لڑنا شروع کر دیتی ہے۔اب کی بارجب گھر کا ماحول خراب ہوا تو میں نے غصے میں آکر اپنی بیوی سے کہا کہ میں سفر پر جا رہا ہوں جو کہ تقریباً تین ماہ کا ہے،میرے سفر کے دوران تمہاری والدہ ہمارے گھر آئی تو تمہیں طلاق۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا جب بھی میری ساس میری غیر موجودگی میں ہمارے گھر آئے گی،کیا ہر دفعہ میری بیوی کو طلاق ہو جائے گی؟میری بیوی بیمار ہے اور بعض اوقات اس کی طبیعت زیادہ بگڑ جاتی ہے جس کے لیے اس کی والدہ کو آنا پڑتا ہے۔تو میں نے جو بات کہی ہے کہ میری سفر سے واپسی تک اگر تمہاری والدہ ہماری طرف آئی تو تمہیں ایک طلاق،کیا طلاق ہوجانے سے پہلے میں یہ الفاظ واپس لے سکتا ہوں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں آپ طلاق کو ختم نہیں کر سکتے۔لہذا آپ کے سفر کے دوران اگر آپ کی ساس آپ کے گھر آئے گی، تو ایک طلاق رجعی واقع ہو جائے گی اوراس کے بعد دوبارہ آنے سے دوسری طلاق نہیں ہو گی۔طلاق سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ ساس آپ کے گھر نہ آئے،اس کی بجائے آپ کی بیوی ان کے گھر چلی جائے تو اس سے طلاق نہیں ہو گی۔لیکن آئندہ اپنی زبان سے ایسے کلمات سوچ سمجھ کر نکالیں۔
حوالہ جات
قال جمع من العلماء رحمھم اللہ: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا، مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.(الفتاوی الھندیۃ:1/420)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: وتنحل اليمين بعد وجود الشرط مطلقا، لكن إن وجد في الملك، طلقت وعتق وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار ،أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها،فتنحل اليمين فينكحها.(الدر المختار:3/355)
قال جمع من العلماء رحمھم اللہ: وزوال الملك بعد اليمين بأن طلقها واحدة أو ثنتين، لا يبطلها ،فإن وجد الشرط في الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق، فدخلت وهي امرأته وقع الطلاق ولم تبق اليمين، وإن وجد في غير الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق، فطلقها قبل وجود الشرط ومضت العدة، ثم دخلت الدار تنحل اليمين ولم يقع شيء كذا في الكافي.
(الفتاوی الھندیۃ:1/416)
محمد عمر الیاس
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
9رجب،1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمر بن محمد الیاس | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


