| 79493 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
السلام علیکم اکچھ دن پہلے میں نے فیملی کے ساتھ کہیں جانا تھا تو اپنی گاڑی کے اچانک خراب ہو جانے کی وجہ سے میں نے رینٹ پر ایک گاڑی کی ۔ لیکن بد قسمتی سے راستے میں ٹائر کے پھٹ جانے کی جگہ سے ہمارا ایکسیڈنٹ ہو گیا جس میں گاڑی کا بھی کافی نقصان ہو گیا، جس کو ٹھیک کروانے پر تقریب ڈیڑھ لاکھ روپے خرچ ہوا ہے۔ اب مالک کا مطالبہ ہے کہ گاڑی کی مینٹیننس پر آنے والے تمام اخراجات میں ادا کروں اور چونکہ ایکسیڈنٹ کی وجہ سے گاڑی کی مارکیٹ ویلیو میں بھی کمی آگئی ہے ، لہذا اس کی مد میں بھی اضافی رقم ادا کروں۔ تو اس صورت میں شرعا میرے اوپر پیسے ادا کرنا لازم ہے یا نہیں ؟ اور اگر لازم ہے تو کتنے فی صد ادا کر نالازم ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ رینٹ پر لیا ہو اسامان استعمال کنندہ کے پاس بطور امانت ہوتا ہے، بغیر قصد و کوتاہی کے اگر وہ سامان گم ہوجائے یا ٹوٹ جائے تو استعمال کنندہ سے اس کی قیمت وصول کرنا جائز نہیں، البتہ غفلت و کوتاہی کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا تاوان نقصان کرنے والے سے وصول کرنا جائز ہوتا ہے۔
حوالہ جات
قال العلامة الحصكفى رحمه الله : ولا يجمع بينهما....... ولا ضمان وقطع أو أجر. قال العلامة ابن عابدين رحمه الله : قوله : ( أو أجر) أي ولا ضمان وأجر، كما لو استأجر دابة ليركبها ففعل وجب الأجر ،ولا ضمان وإن عطبت. (الدر المختار مع رد المحتار: 259/1)
المأجور أمانة في يد المستأجر إن كان عقد الإجارة صحيحا أو لم يكن.
(مجلة الأحكام العدلية: المادة 600)
لا يلزم الضمان إذا تلف المأجور في يد المستأجر مالم يكن بتقصيره أو تعديه أو مخالفته المأذونيته
( مجلة الأحكام العدلية : المادة 601)
يلزم الضمان على المستأجر لو تلف المأجور أو طر أعلى قيمته نقصان بتعديه. مثلا لو ضرب المستأجر دابة الكراء فماتت منه أو ساقها بعنف وشدة هلكت لزمه ضمان قيمتها.
(مجلة الأحكام العدلية : المادة 602)
حركة المستأجر على خلاف المعتاد تعد ويضمن الضرر والخسارة التي تتولد معها مثلا لو استعمل الثياب التي استكراها على خلاف عادة الناس وبليت يضمن كذلك لو احترقت الدار المأجورة بظهور حريق فيها بسبب إشعال المستأجر النار أزيد من الناس يضمن.
(مجلة الأحكام العدلية: المادة 603)
محمد عمر بن محمدالیاس
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
13رجب،1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمر بن محمد الیاس | مفتیان | فیصل احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


