03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بالغہ کا والدین کی اجازت کے بغیر نکاح کا حکم
80128نکاح کا بیانولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان

سوال

ایک صغری نامی لڑکی نے موبائل فون کے ذریعے ایک آدمی حامد نذیر کو اپنے نکاح کا وکیل بنایا، اس کال کو سننے والے دو گواہ بھی موجود ہیں، لڑکی نے حامد نذیر سے کہا کہ میرا نکاح سالک حمید ولد عبدالحمید خان سے کروا دو، ان دونوں گواہوں (جن کا نام بلال مصطفی اور شاہ زیب خلیل ہے) کی موجودگی میں سالک حمید ولد عبدالحمید خان نے صغری کو اپنے نکاح میں قبول کر لیا۔ اس وقت مہرکی مقدار متعین نہیں کی گئی تھی، یہ نکاح والدین کی رضامندی کے بغیرہوا اور والدین کو اس نکاح کی اطلاع بھی نہیں دی گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ نکاح درست ہوا؟

وضاحت: سائل نے بتایا کہ لڑکا لڑکی کاکفو ہے، قوم بھی دونوں کی ایک ہے، لڑکا اور لڑکی دونوں نمازی ہیں، حسب نسب اور مالداری وغیرہ میں بھی دونوں برابر ہیں، البتہ لڑکا ابھی زیر تعلیم ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اگر واقعتاً لڑکا لڑکی کا کفو ہے، یعنی دینداری، مالداری، حسب ونسب اور پیشہ وغیرہ میں لڑکا لڑکی کا ہم پلہ ہے، جیسا کہ سوال میں وضاحت کی گئی ہے تو اس صورت میں یہ نکاح درست اور منعقد ہو چکا ہے، اب لڑکے سے طلاق یا خلع لیے بغیر لڑکی کا کسی اور جگہ نکاح کرنا ہرگز جائز نہیں۔

جہاں تک مہر متعین نہ کرنے کا تعلق ہے تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، البتہ ایسی صورت میں رخصتی ہو جانے کے بعد لڑکی کے لیے مہرِمثل واجب ہوتا ہے، مہرمثل کا مطلب یہ ہے کہ لڑکی کے خاندان کی دیگر خواتین اور چچا زاد بہنوں کا جو مہر مقرر ہو اس کے مطابق مہر ادا کیا جائے گا۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 191) دار احياء التراث العربي، بيروت:

" وينعقد نكاح الحرة العاقلة البالغة برضاها وإن لم يعقد عليها ولى بكرا كانت أو ثيبا عند أبي حنيفة وأبي يوسف " رحمهما الله " في ظاهر الرواية وعن أبي يوسف" رحمه الله " أنه لا ينعقد إلا بولي وعند محمد ينعقد موقوفا "

الفتاوى الهندية (1/ 292) دار الفكر:

المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - آخرا وقول محمد - رحمه الله تعالى - آخرا أيضا حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك ولكن للأولياء حق الاعتراض وروى الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أن النكاح لا ينعقد وبه أخذ كثير من مشايخنا رحمهم الله تعالى، كذا في المحيط والمختار في زماننا للفتوى رواية الحسن وقال الشيخ الإمام شمس الأئمة السرخسي رواية الحسن أقرب إلى الاحتياط، كذا في فتاوى قاضي خان في فصل شرائط النكاح وفي البزازية ذكر برهان الأئمة أن الفتوى في جواز النكاح بكرا كانت أو ثيبا على قول الإمام الأعظم وهذا إذا كان لها ولي فإن لم يكن صح النكاح اتفاقا.

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 195) دار احياء التراث العربي – بيروت:

" الكفاءة في النكاح معتبرة " قال عليه الصلاة والسلام " ألا لا يزوج النساء إلا الأولياء ولا يزوجن إلا من الأكفاء " ولأن انتظام المصالح بين المتكافئين عادة لأن الشريفة تأبى أن تكون مستفرشة للخسيس فلا بد من اعتبارها بخلاف جانبها لأن الزوج مستفرش فلا تغيظه دناءة الفراش "وإذا زوجت المرأة نفسها من غير كفء فللأولياء أن يفرقوا بينهما " دفعا لضرر العار عن أنفسهم " ثم الكفاءة تعتبر في النسب " لأنه يقع به التفاخر .

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 205) دار احياء التراث العربي – بيروت:   

قال: " ومهر مثلها يعتبر بأخواتها وعماتها وبنات أعمامها " لقول ابن مسعود رحمه الله لها مهر مثل نسائها لا وكس فيه ولا شطط وهن أقارب الأب ولأن الإنسان من جنس قوم أبيه وقيمة الشيء إنما تعرف بالنظر في قيمة جنسه " ولا يعتبر بأمها وخالتها إذا لم تكونا من قبيلتها " لما بينا " فإن كانت الأم من قوم أبيها بأن كانت بنت عمه فحينئذ يعتبر بمهرها " لما أنها من قوم ابيها " ويعتبر في مهر المثل أن تتساوى المرأتان في السن والجمال والمال والعقل والدين والبلد والعصر " لأن مهر المثل يختلف باختلاف هذه الأوصاف.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

23/شوال المکرم 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب