| 81942 | نان نفقہ کے مسائل | نان نفقہ کے متفرق مسائل |
سوال
پہلے سوال میں ذکرکردہ صورتحال کےدوران منہ بولی بیٹی نے اپنی منہ بولی ماں (یعنی اعجاز صاحب کی بیوی) کا ساتھ دیا اور اعجاز صاحب سے منہ بولا رشتہ ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ اعجاز صاحب کا یہ مطالبہ ہے کہ انہوں نے منہ بولی بیٹی کی شادی پر جو خرچ کیا تھا وہ انہیں ہر صورت واپس کیا جائے۔ یاد رہے کہ ان کا یہ مطالبہ منہ بولا رشتہ ختم ہونے کی وجہ سے ہے ۔کیا ان کا یہ مطالبہ شرعا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کوئی شخص کسی کا بچہ اس غرض سےگود لیتا ہے کہ میں اس کی تربیت اور پرورش کروں گا اور ا سے اپنی اولاد کی طرح رکھوں گا اورا س کےتمام اخراجات ومصارف اٹھاؤں گا تو یہ شرعی طور پر جائز ہےاور اس کے اس وعدہ کی بناء پر تمام خرچے اس کے ذمے ہوجائیں گے، لہذا بعد میں اس کو ان اخراجات کے لوٹانے کا مطالبہ کرنے کا حق نہ ہوگا ۔
حوالہ جات
نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة ...... وبعد الفطام يفرض القاضي نفقة الصغار على قدر طاقة الأب وتدفع إلى الأم حتى تنفق على الأولاد، فإن لم تكن الأم ثقة تدفع إلى غيرها لينفق علی الولد. ( الفتاوى الهندية:1/560،561)
الذكور من الأولاد إذا بلغوا حد الكسب، ولم يبلغوا في أنفسهم يدفعهم الأب إلى عمل ليكسبوا، ويؤاجرهم وينفق عليهم من أجرتهم وكسبهم، وأما الإناث فليس للأب أن يؤاجر هن في عمل، أو خدمة كذا في الخلاصة. ثم في الذکور إذا سلمهم في عمل فاكتسبوا أموالا فالأب يأخذ كسبهم وينفق عليهم. (الفتاوى الهندية : 562/1)
المتبرع لا يرجع بما تبرع به علی غیره کمالو قضی دین غیره بغير أمره. (العقود الدرية: 226/2)
ثم اعلم أن في الفقه بابا يسمى بالتبرع، ولا يوجد متميزا عن باب الهبة، إلا أنه يذكر في ضمن المسائل، فلينقح الفرق بين البابين ،لاختلاف أحكامهما، ففي «القنية»: المتبرع لا يرجع فيما تبرع به، فباب الرجوع لا يمشي في التبرعات، بخلاف الهبة. (فيض الباري: 58/4)
رفیع اللہ
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
2جمادی الاولی 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رفیع اللہ غزنوی بن عبدالبصیر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


