03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کو “تم آزاد ہو” کہنے کا حکم
79476طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے کچھ باتیں پسند نہیں تھیں، لیکن میری بیوی وہی کام کرتی تھی، تو مَیں نے کہا کہ اگر تمہیں اپنا ہی کام کرنا ہے، اپنی ہی مَن مانی کرنی ہے، تو ٹھیک ہے، پھر تم آزاد ہو، تم کو جو کرنا ہے، کرو، ہم تم کو نہیں روکیں گے، لیکن میرے ذہن میں طلاق کی بات نہیں تھی۔ مَیں نے "طلاق" بھی استعمال نہیں کیا، نہ ہی بولا، بلکہ مَیں نے اس بات پہ بولا تھا کہ تم کو اپنی من مانی کرنا ہے تو کرو، تم آزاد ہو، تم جو چاہے کرو؛ کیونکہ تمہیں میری بات ماننی ہی نہیں ہے۔

ایک دن مَیں نے کہا تھا کہ اگر تم جانا چاہو تو میری طرف سے کوئی پرابلم نہیں ہیں، مگر میرے ذہن میں طلاق کے متعلق کوئی بات نہیں تھی، میرا جانے بولنے کا مطلب یہ تھا کہ جہاں جانا چاہو، جاؤ۔

اور مَیں نے ایک بار یہ کہا تھا کہ اب تمہاری امی کو پتہ چلے گا کہ تمہیں Divorce ہوگیا ہے، لیکن مَیں نے Divorce دیا نہیں، اور نہ ہی مَیں نے یہ بات ذہن میں طلاق کا تصور کرکے بولی تھی، بس وہ بولے جا رہی تھی، تو صرف اس کو چپ کرانے کے لیے مَیں نے کہا تھا۔ اور ان سب  واقعے کو چار پانچ مہینہ ہوچکا ہے، اُس کے بعد ہم لوگ ہم بستری بھی کرچکے ہیں، ساتھ میں خوشی کے ساتھ رہتے ہیں۔ کیا میرا نکاح ٹوٹ گیا یا برقرار ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

"تم آزاد ہو" کہنے سے اُس وقت طلاق واقع ہوتی ہے جب عُرف (یعنی عام رواج) میں یہ طلاق کے لیے متعین ہو، یا عُرف میں طلاق کے لیے متعین تو نہ ہو، البتہ شوہر نے طلاق کی نیت سے یہ جملہ کہا ہو، تو بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ سوال میں ذکرکردہ صورت میں آپ نے چونکہ یہ جملہ طلاق کی نیت سے نہیں بولا تھا، اور نہ ہی آپ کے عُرف میں یہ جملہ طلاق کے لیے بولا جاتا ہے، اور آپ کا بیوی سے یہ کہنا کہ "اب تمہاری امی کو پتہ چلے گا کہ تمہیں Divorce ہوگیا ہے"، محض ڈرانے کے لیے تھا، اس لیے طلاق واقع نہیں ہوئی۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/374):

"الكنايات ثلاثة أقسام: ما يصلح جوابا لا غير، أمرك بيدك، اختاري، اعتدي، وما يصلح جوابا وردا لا غير، اخرجي، اذهبي، اعزبي، قومي، تقنعي، استتري، تخمري، وما يصلح جوابا وشتما، خلية، برية، بتة، بتلة، بائن، حرام. والأحوال ثلاثة: حالة الرضا، وحالة مذاكرة الطلاق، ... وحالة الغضب. ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية، والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين ... وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك؛ لاحتمال الرد والسب، إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم."

رد المحتار (11/166):

"الحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة، والكنايات ثلاث: ما يحتمل الرد، أو ما يصلح للسب، أو لا ولا ... ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية)؛ للاحتمال، والقول له بيمينه في عدم النية، ويكفي تحليفها له في منزله ... (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا."

محمد مسعود الحسن صدیقی

دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

22/رجب الخیر/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مسعود الحسن صدیقی ولد احمد حسن صدیقی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب