03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹے کی میراث میں والدہ کا کتنا حصہ ہو گا؟
80155میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے والد کا انتقال 2016ء میں ہوا، جس وقت میری دادی حیات تھیں اور اب بھی حیات ہیں، مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ میرے دادا،  دادی کے کل چا ربچے تھے، جن میں دو بیٹیاں اور دو بیٹے شامل تھے، میرے والد کے انتقال کے وقت سب حیات تھے، میرے والدین کی شادی 1988ء میں ہوئی، اس وقت سے لے کر 2016ء یعنی والد کے ساتھ ان کی زیرِ کفالت رہیں، 2004ء سے 2016ء تک سال میں تین سے چھ ماہ بیٹوں سے ملنے کینیڈا جاتی تھیں، ان کی وفات کے بعد دادی آدھا وقت ہمارے پاس اور آدھا ہمارے چچا کے پاس کینیڈا گزارتی تھیں، اب سوالات درج ذیل ہیں:

میرے والد کی میراث میں میری دادی میری والدہ، میں اور میرے بھائی اور میری دو بہنوں کا کیا حصہ بنے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کے والد مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جو کچھ ساز وسامان چھوڑا ہے اور مرحوم  کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب  الادء ہو، يہ  سب مرحوم کا ترکہ ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالنے،مرحوم کے ذمہ  واجب الاداء قرض ادا کرنے اور کل ترکہ کے ایک تہائی(3/1) تک جائز وصیت (اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو) پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے، اس میں سے چھٹا حصہ مرحوم کی والدہ کا، آٹھواں حصہ مرحوم کی بیوی کا اور باقی ان کےبیٹے اور بیٹیوں میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دوگنا دیا جائے گا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ مرحوم کے ترکہ سے متعلق مذکورہ بالا پہلے تین حقوق ادا کرنے کے بعد باقی بچنے والے ترکہ کوایک سو چوالیس (144) حصوں میں  برابرتقسیم کرکے  آپ کی دادی یعنی مرحوم کی والدہ  کوچوبیس (24) حصے،  آپ کی والدہ یعنی مرحوم کی بیوی کو اٹھاره (18) حصے ،آپ اور آپ کے بھائی یعنی مرحوم کے ہر بیٹے کو  چونتیس (34) حصے اورآپ کی بہنیں یعنی مرحوم کی  ہر بیٹی کوسترہ (17) حصے دیے جائیں گے، فيصدی لحاظ سے ہر وارث كے حصہ کی تفصیل ذیل کے  نقشہ میں  ملاحظہ فرمائیں:

نمبر شمار

وارث

    عددی حصہ

فيصدی حصہ

1

مرحوم کی والدہ(سدس)

24

16.666%

2

مرحوم کی بیوی(ثمن)

18

12.5%

3

مرحوم کی بیٹا (عصبہ)

34

23.611%

4

مرحوم کی بیٹا(عصبہ)

34

23.611%

5

مرحوم کی بیٹی(عصبہ)

17

11.805%

6

مرحوم کی بیٹی(عصبہ)

17

11.805%

حوالہ جات

      القرآن الکریم : [النساء:11]

       يوصيكم اللَّه في أَولَادكم للذكَر مثل حظ الأنثيينِ.

      السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:

وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.

السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:

أحوال الأم وأما لأم فأحوال ثلاث: السدس مع الولد أو ولد الابن وإن سفل، أو مع الاثنين من الإخوة والأخوات فصاعدامن أي جهة كاناوثلث الكل عند هؤلاء المذكورين .

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

26/شوال المکرم 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب