03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدالتی خلع کے بعد دوسرے نکاح اور پہلے شوہر کے پاس واپسی کا حکم
91412طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

عرض یہ ہے کہ میرا نام عروبہ سعید ہے۔ میرا نکاح جواد عارف سے ہوا تھا۔ گھریلو اختلافات کی وجہ سے میرے گھر والوں نے عدالت کے ذریعے میرا خلع کروا دیا۔ یہ خلع میری طرف سے لیا گیا تھا، جبکہ میرے شوہر جواد عارف نے خلع پر رضامندی  اور دستخط نہیں  کی تھی۔

بعد ازاں میرے گھر والوں نے میرا دوسرا نکاح ہاشم سے کر دیا۔ میرے ماموں کو جب معلوم ہوا ،تو اس  نے مجھے بتایا کہ اگر پہلا خلع صرف قانونی طور پر ہوا تھا اور شرعی تقاضے پورے نہیں ہوئے تھے، تو  دوسرا نکاح شرعاً درست نہیں۔

 یہ نکاح تقریباً آٹھ ماہ تک قائم رہا، لیکن اس دوران وہ مجھے اپنے گھر نہیں رکھ سکا  اور میں میکے میں  رہتی تھی۔ بعد میں نے دوسرے شوہر سے  اس کی رضامندی سےخلع لے لیا۔

اب میں اپنی سابقہ زندگی پر نادم ہوں۔ میں اپنے پہلے شوہر جواد عارف سے معافی مانگنا چاہتی ہوں، اور مجھے امید ہے کہ وہ بھی میرے ساتھ اچھا سلوک کریں گے۔ میں غلطیوں کو معاف کرنے کے لیے تیار ہوں۔

سوال یہ ہے کہ:

1. اگر پہلا خلع صرف عدالتی تھا اور شرعی اعتبار سے صحیح نہیں ہوا تھا، تو اس صورت میں دوسرے نکاح کا کیا حکم ہے؟

2. دوسرے شوہر سے خلع لینے کے بعد کیا میں اپنے پہلے شوہر کے پاس واپس جا سکتی ہوں یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1واضح رہے کہ نکاح ایک مقدس شرعی رشتہ ہوتا ہے، جس کو حتی الامکان ہمیشہ کے لیے باقی رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے، البتہ اگر میاں بیوی کے آپس میں نباہ ممکن نہ ہو تو شریعت نے بیوی کو خلع کے ذریعے نکاح ختم کرنے کا حق دیا ہے، مگر خلع کے ذریعے نکاح ختم کرنا   میاں بیوی دونوں کی رضامندی پر موقوف ہوتا ہے۔

لہٰذا یکطرفہ طور پر بیوی یا عدالت کو شرعاً خلع کا اختیار نہیں، البتہ اگر کہیں شوہر کی طرف سے کوئی معتبر سبب فسخ موجود ہو، جیسے شوہر کا مفقود ہونا یا ظلم کرنا وغیرہ اور بیوی شرعی ثبوتوں سے یہ بات عدالت میں ثابت کردے تو عدالت کو اس صورت میں نکاح فسخ کرنے کا اختیار  ہوتا ہے ۔

لہٰذا مذکورہ صورت میں اگر آپ کا شوہر خلع پر راضی نہیں تھے اور اس نے دستخط بھی نہیں کئے تھے ،تو اس صورت میں عدالت سے یکطرفہ طور پر خلع کی ڈگری لینا شرعاً معتبر نہیں، کیونکہ خلع کے معتبر ہونے کے لیے میاں بیوی کی باہمی رضامندی ضروری ہے، لہٰذا اس فیصلے کی وجہ سے فریقین کا نکاح شرعاً ختم نہیں ہوا اور آپ کی  کا  طلاق یا باہمی رضامندی سے خلع لیے بغیر دوسری جگہ آپ کی  نکاح  ہوا نہیں۔ لہٰذا، جب پہلا خلع غیر شرعی تھا، تو ہاشم کے ساتھ آپ کا نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں تھا اور آپ بدستور اپنے پہلے شوہر کی بیوی تھیں ۔

(2 جب  یہ ثابت ہو ا کہ پہلا عدالتی خلع شرعاً معتبر نہیں تھا اور شوہر نے نہ خلع پر رضامندی ظاہر کی تھی اور نہ طلاق دی تھی، تو آپ کا جواد عارف سے نکاح برقرار رہا۔ ایسی صورت میں اگر ہاشم کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم نہ ہوئے ہوں ، تو آپ پر اس نکاح کی کوئی عدت لازم نہیں ہوگی اور آپ توبہ و استغفار کے بعد اپنے پہلے شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہیں۔

البتہ اگر ہاشم کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم ہو چکے تھے تو اگرچہ دوسرا نکاح منعقد نہیں ہوا  تھا، تاہم نکاحِ فاسد میں وطی کے بعد عدت واجب ہو جاتی ہے۔ لہٰذا آپ پر ہاشم سے علیحدگی کے بعد تین حیض عدت گزارنا لازم ہوگا، اور عدت مکمل ہونے سے پہلے پہلے شوہر کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنا جائز نہیں ہوگا۔ عدت مکمل ہونے کے بعد آپ اپنے پہلے شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہیں۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع :229\3

"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ‌ولا ‌يستحق ‌العوض ‌بدون ‌القبول."

حاشیہ ابن عابدین :441\3

"وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ‌ولا ‌يستحق ‌العوض ‌بدون ‌القبول."

الموسوعہ الفقہیہ الکویتیہ :219\34

اتَّفَقَ الْفُقَهَاءُ عَلَى أَنَّهُ لَا يَجُوزُ لِلأَْجْنَبِيِّ نِكَاحُ الْمُعْتَدَّةِ... نِكَاحُ مُعْتَدَّةِ الْغَيْرِ يُعْتَبَرُ مِنَ الأَْنْكِحَةِ الْفَاسِدَةِ الْمُتَّفَقِ عَلَى فَسَادِهَا وَيَجِبُ التَّفْرِيقُ بَيْنَهُمَا".

 عابداللہ بن لاجبرخان

دارالافتاء  جامعہ الرشید کراچی

10/صفر المظفر /8144ھ

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عابد اللّہ بن لاجبر خان

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب