03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حرمت مصاہرت کا بہن کے حق میں ثابت ہونے کا حکم
88477نکاح کا بیانحرمت مصاہرت کے احکام

سوال

اگر کوئی لڑکا جس کی عمر 14 سے 16 سال ہو اور وہ لڑکا اپنی خالہ کو شہوت کے ساتھ ہاتھ لگائے اور شہوت کے ساتھ چپ چپ کر اپنی خالہ کو باتھ روم میں دیکھے تو کیا اس لڑکے کی بہن کا نکاح خالہ کے بیٹے سے ہو سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ عمل شرعاً نا جائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ہے ، جس پرسچے دل سے توبہ و استغفار کرنا اور آئندہ کےلئے اس سے مکمل اجتناب کرنالازم ہے، تاہم ناجائز چھونے وغیرہ سے اپنی تمام تر شرائط کے بعد ثابت ہونے والی حرمت ،اس عمل کے مرتکب لڑکا ، لڑکی اور ان کے اصول و فروع  تک محدود ہوتی ہے،بھائی ،بہن وغیرہ دوسرے رشتے داروں کے حق میں ثابت نہیں ہوتی، لہذا مذکورہ نکاح درست ہوگا۔

حوالہ جات

 (قوله: وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها.

شیرعلی

دارالافتاء جامعۃ الرشید

24صفر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

شیرعلی بن محمد یوسف

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب