| 88477 | نکاح کا بیان | حرمت مصاہرت کے احکام |
سوال
اگر کوئی لڑکا جس کی عمر 14 سے 16 سال ہو اور وہ لڑکا اپنی خالہ کو شہوت کے ساتھ ہاتھ لگائے اور شہوت کے ساتھ چپ چپ کر اپنی خالہ کو باتھ روم میں دیکھے تو کیا اس لڑکے کی بہن کا نکاح خالہ کے بیٹے سے ہو سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ عمل شرعاً نا جائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ہے ، جس پرسچے دل سے توبہ و استغفار کرنا اور آئندہ کےلئے اس سے مکمل اجتناب کرنالازم ہے، تاہم ناجائز چھونے وغیرہ سے اپنی تمام تر شرائط کے بعد ثابت ہونے والی حرمت ،اس عمل کے مرتکب لڑکا ، لڑکی اور ان کے اصول و فروع تک محدود ہوتی ہے،بھائی ،بہن وغیرہ دوسرے رشتے داروں کے حق میں ثابت نہیں ہوتی، لہذا مذکورہ نکاح درست ہوگا۔
حوالہ جات
(قوله: وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها.
شیرعلی
دارالافتاء جامعۃ الرشید
24صفر1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شیرعلی بن محمد یوسف | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


