03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آن لائن گولڈ /کرنسی ٹریڈنگ میں مضاربت  کا شرعی  حکم
91113مضاربت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

 عرض ہے کہ  ایک شخص آن لائن گولڈ ٹریڈنگ کا کاروبار کرتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنا سرمایہ اور کچھ لوگوں کا سرمایہ مضاربت کی بنیاد پر لیتا ہے۔ پھر وہ تمام رقم کو ملا کر ایک اکاؤنٹ  بروکر  کے ساتھ کھول لیتا ہے اور اس رقم کو کسی دوسری کرنسی میں تبدیل کر دیتا ہے۔ مارکیٹ میں ریٹ کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے کبھی نفع ہوتا ہے اور کبھی نقصان۔ اسی نفع و نقصان کی بنیاد پر وہ شرکاء کو منافع دیتا رہتا ہے یا نقصان کی صورت میں نقصان سے آگاہ کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ     (1) اس طرح کا آن لائن گولڈ/کرنسی ٹریڈنگ کا کاروبار کرنا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟( 2) اگر جائز ہے تو اس میں مضاربت کے شرعی اصولوں کی رعایت کی گئی ہے یا نہیں؟( 3) اس کاروبار میں شامل ہونے والے شرکاء کے لیے اس میں سرمایہ لگانا جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطور تمہید جان لیں کہ آن لائن فاریکس ٹریڈنگ  کیلئے مندرجہ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:

(1)جائز چیز کی خریدو فروخت ہو۔

(2) لین دین حقیقی ہو ، صرف اکاؤنٹ میں ظاہر نہ کیا جاتا ہو۔

(3)چیز  بیچنے والا اس کامالک ہواور بیچنے سے پہلے اس پر قبضہ بھی کیا ہو ۔

(4)عقد کی مجلس میں ہی مبیع (subject matter)پرحقیقتاً یا حکماً  قبضہ کیا جائے۔

(5)کرنسی اور سونا چاندی کی خرید وفروخت میں بوقت عقد کسی ایک عوض پر لازمی قبضہ کیا جائے۔

(6) بیع فوری ہو ، فیوچر  یا  فارورڈسیل نہ ہو،اسی طرح آپشز(options)،لانگ یا شارٹ پوزیشن،مارجن ٹریڈنگ،شارٹ سیل اوربلینک سیل کی صورت نہ ہو۔

ہماری معلومات کےمطابق آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کےموجودہ ماڈل میں ان شرائط  کا عملاً خیال نہیں رکھا جاتا،buy اور sell  وغیرہ کے الفاظ فقط رسمی طور پر لکھے ہوتے ہیں، حقیقتاً خرید و فروخت شرعی اصولوں کے مطابق نہیں کی جاتی،بلکہ صرف فرق برابر کیا جاتا ہے،اس لیےاس سے احتراز لازم ہےاور ایسی ٹریڈنگ کرناشرعاًناجائز ہے،نیزاس ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا نفع  بھی حلال نہیں ہے۔

اس تمہید کے بعد آپ کے سوالوں کے جوابات بالترتیب ذیل میں پیش ہیں:

(1)صورت مسئولہ میں ریٹ کے اتار چڑھاؤ کا جو تذکرہ آپ نے کیا ہے اسے فاریکس ٹریڈ کی اصطلاح میں لانگ پوزیشن سے تعبیر کیا جاتا ہے، جو شرعا جائز نہیں ہے۔ نیز اس کے علاوہ بھی تمہید میں ذکر کردہ دیگر شرائط  کرنسی یا گولڈ ٹریڈنگ میں عموما نہیں پائی جاتیں۔ لہذا اس طرح  آن لائن گولڈ یا کرنسی ٹریڈنگ  شرعا جائز نہیں ہے ، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔

(2،3)مضاربت کے جائز ہونے کیلئے ایک شرط  یہ ہے کہ کاروبار جائز اور حلا ل ہو۔ مندرجہ بالا تفصیلات سے  چونکہ یہ ظاہر ہوچکا کہ  آن لائن کرنسی یا گولڈ ٹریڈنگ جائز کاروبار نہیں ہے، اس لئےشرکا ء کیلئے  اس میں مضاربت کے طور پر سرمایہ کاری بھی جائز نہیں ہوگی۔

 واضح رہے کہ  اگر کسی آن لائن فاریکس ٹریڈنگ  کے طریقہ کار کی نگرانی مستند علماء کرام  کر رہے ہوں اور انہوں نے تحریراً اس بات کی گواہی دی ہو کہ اس کا طریقہ کار شرعاً درست ہے تو اس صورت میں اس میں کام کرنا جائز ہوگا۔ اس بنیاد پر پھر اس میں مضاربت  کے شرعی اصولوں کا خیال رکھتے ہوئے سرمایہ کاری بھی جائز ہوگی۔

ضروری وضاحتفاریکس،شیئرز اور مختلف کموڈٹیز میں آن لائن خرید وفروخت کے حوالے سے تفصیلی فتوی،دارالافتاء جامعۃ الرشید کی ویب سائٹ almuftionline.com پر بعنوان "آن لائن فاریکس ٹریڈنگ اور اسٹاک ایکسچینج میں رائج مختلف صورتوں کا حکم" یا فتوی نمبر 85615 سرچ کرکے ضرور ملاحظہ فرمائیں۔

حوالہ جات

" قال ‌ومن ‌اشترى ‌شيئا ‌فلا ‌يجوز ‌له ‌أن يبيعه قبل أن يقبضه ولا يوليه أحدا ولا يشرك فيه". (المبسوط للسرخسي، ٠٨/١٣، دار المعرفة)

‌"ثم ‌الإضافة ‌إلى ‌وقت ‌في ‌المستقبل ‌كالتعليق بالشرط حتى أن ما يتحمل التعليق بالشرط يجوز إضافته إلى وقت في المستقبل كالطلاق والعتاق، وما لا فلا كالإجارة والبيع، ثم الإجارة لا تحتمل التعليق بالشرط فلا تحتمل الإضافة إلى وقت في المستقبل والدليل عليه أنه لا يتعلق به اللزوم ولا يملك الأجر بنفس العقد.»قال العلامۃ السرخسی رحمہ اللہ تعالی : ولهذا لا يجوز البيع إلا بعد أن يكون المبيع مملوكا للبائع مقدور التسليم له". (المبسوط للسرخسي، ٢٠/١٦، دار المعرفة)

"وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم". (الدر المختار و حاشية ابن عابدين، ٠٤/٥٠٥، دار الفكر)

" ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح وكذا الهبة والصدقة". (الدر المختار و حاشية ابن عابدين، ٠٤/٥٦١، دار الفكر)

" (وأما) القسم الذي ليس للمضارب أن يعمله أصلا ورأسا، فشراء ما لا يملك بالقبض وما لا يجوز بيعه فيه إذا قبضه. (أما) الأول فنحو شراء الميتة والدم والخمر والخنزير وأم الولد والمكاتب والمدبر؛ لأن المضاربة تتضمن الإذن بالتصرف الذي يحصل به الربح، والربح لا يحصل إلا بالشراء والبيع، فما لا يملك بالشراء لا يحصل فيه الربح". (بدائع الصنائع، ٠٦/٩٨، دار الكتب العلمية)

عزیرولد  انور خان

دار الافتاء جامعہ الرشید

26 /محرم الحرام  /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیر ولد انور خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب