03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کا بیوی کی میراث اپنی ملکیت میں لینے کا حکم
79549میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا شوہر اپنی بیوی کے انتقال کے بعد اس کا سامان وراثت میں تقسیم کرنے کے بجائے اپنی ملکیت میں لے سکتا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کا سامان ورثہ کی ملکیت میں چلا جاتا ہے، لہذا شوہر کا اپنی بیوی کی میراث کو تقسیم نہ کرنا اور اپنی ملکیت میں لینا درست نہیں بلکہ اس میراث کو شریعت کی تعلیمات کے مطابق ورثاء کے درمیان تقسیم کرنا ضروری ہے۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي (9/ 52)

موت المورث سبب لانتقال المال إلى الوارث۔

البحر الرائق (8/ 557)

"وأما بيان الوقت الذي يجري فيه الإرث فنقول هذا فصل اختلف المشايخ فيه قال مشايخ العراق الإرث يثبت في آخر جزء من أجزاء حياة المورث وقال مشايخ بلخ الإرث يثبت بعد موت المورث"۔

ولی الحسنین

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

 ۲۶ رجب ۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ولی الحسنین بن سمیع الحسنین

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب