| 79552 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
اگر کسی عورت کی ملکیت میں زرعی زمین ہو تو اسکے انتقال کے بعد وہ صرف بچوں میں تقسیم ہو گی یا شوہر کا بھی اس میں حصہ ہو گا۔ان کے ۵بیٹے اور ۲ بیٹیاں ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عورت کے انتقال کے بعد جس طرح اس کی اولاد کو حصہ ملتا ہے اسی طرح اسکے شوہر کو بھی حصہ ملتا ہے۔اگر بیوی کی اولاد موجود ہو تو شوہر کو چوتھائی حصہ ملتا ہے۔
صورت مسؤلہ میں زرعی زمین میں چوتھائی حصہ شوہر کا ہوگا۔ دیگر ورثہ کے حصےدرج ذیل نقشہ میں مذکور ہیں۔
|
نمبرشمار |
ورثہ |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
۱ |
شوہر |
4 |
25% |
|
۲ |
بیٹی |
1 |
6.25% |
|
۳ |
بیٹی |
1 |
6.25% |
|
۴ |
بیٹا |
2 |
12.5% |
|
۵ |
بیٹا |
2 |
12.5% |
|
۶ |
بیٹا |
2 |
12.5% |
|
۷ |
بیٹا |
2 |
12.5% |
|
۸ |
بیٹا |
2 |
12.5% |
|
کل |
16 |
100% |
|
حوالہ جات
القران الکریم(النساء:12)
"وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّھُنَّ وَلَدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَھُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصِيْنَ بِھَآ اَوْ دَيْنٍ ۭوَلَھُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَھُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوْصُوْنَ بِھَآ اَوْ دَيْنٍ ۭ"
ولی الحسنین
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
۲۶ رجب ۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ولی الحسنین بن سمیع الحسنین | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


