| 79598 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ میرا ایک دوست سعودیہ میں کام کرتا ہے۔کچھ دن پہلے میں اس سے اپنا کچھ سامان منگوایا تو اس سامان میں میرے دوست نے ایک موبائل بھی بھیجا اور مجھے کہا کہ یہ میرے گھرپہنچا دو۔میں نے اسے کہا کہ اگر تمہاری اجازت ہو کچھ دن میں یہ موبائل استعمال کر لوں؟اس نے کھلے دل سے اجازت دے دی۔لیکن اب ایک اور دوست مجھ سے وہ موبائل عارضی طور مانگ رہا ہے۔کیا میں اسے وہ موبائل دے سکتا ہوں؟اور اگر میرے پاس یا میرے دوسرے دوست کے پاس موبائل خراب ہو گیا تو یہ نقصان کس کے کھاتے میں جائے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے دوست نے موبائل صرف آپ کو استعمال کرنے کے لیے دیا ہے ،یا وہ موبائل ایسا ہے کہ کسی اور شخص کے استعمال کرنے سے موبائل میں کوئی خرابی پیدا ہونے کا امکان ہو تو پھر آپ کے لیے موبائل آگےکسی اور کو دینا جائز نہیں،اور اس صورت میں اگر دوسرے شخص کے پاس کوئی خرابی پیدا ہو گئی(چاہے اس شخص کی طرف سے کوئی غفلت پائی گئی یا نہیں ) تو اس کا ضمان آپ پر آئے گا۔
اوراگر صراحتاً یا دلالۃً آگے کسی اور کو عاریۃً دینے کی اجازت ہو یا وہ سادہ موبائل ہے کہ کسی اور شخص کے استعمال کرنے سے اس میں کسی قسم کا نقص پیداہونے کا امکان نہ ہو ، تو اس صورت میں آپ کے لیے آگے کسی اور کو دینا جائز ہو گا اور نقصان کی صورت میں ضمان کسی پر بھی نہیں آئے گا ۔
حوالہ جات
قال جمع من العلماء رحمھم اللہ:وله أن يعير غيره ،سواء كان شيئا يتفاوت الناس في الانتفاع به أو لا يتفاوتون إذا كانت الإعارة مطلقة لم يشترط على المستعير الانتفاع بها بنفسه، فأما إذا شرط عليه ذلك فله أن يعير ما لا يتفاوت الناس في الانتفاع به دون ما يتفاوتون فيه.(الفتاوی الھندیۃ:4/364)
وقالوا أیضاً: قالوا: إن كان شرط في الإعادة أن يركب المستعير بنفسه كان ضامنا بالدفع إلى غيره، ولو استعار مطلقا ......وكان الناس يفعلون مثل ذلك لم يضمن، وإن كانوا لا يفعلون مثله ضمن، كذا في الينابيع.
(الفتاوی الھندیۃ:4/367)
وقالوا أیضاً: المسألة الثالثة : إذا رفع جرة غيره بغير أمره فانكسرت يضمن.......؛لأن الإذن ثابت في
هذه المسائل دلالة والدلالة يجب اعتبارها ما لم يوجد الصريح بخلافه كذا في الذخيرة.
(الفتاوی الھندیۃ:5/129)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ:وله أن يعير ما اختلف استعماله أولا إن لم يعين المعير منتفعا ،و يعير ما لا
يختلف إن عين وإن اختلف لا للتفاوت.(الدرالمختار:5/680)
قال العلامۃعلي بن أبي بكر المرغيناني رحمہ اللہ:وله أن يعيره إذا كان مما لا يختلف باختلاف المستعمل.... فلو استعار دابة ولم يسم شيئا له أن يحمل ويعير غيره للحمل.(الھدایۃ:3/220)
قال جمع من العلماء رحمھم اللہ: إن كان شرط في الإعادة أن يركب المستعير بنفسه كان ضامنا بالدفع إلى غيره، ولو استعار مطلقا لا يكون ضامنا.(الفتاوی الھندیۃ:4/367)
محمد عمر بن محمدالیاس
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
27رجب،1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمر بن محمد الیاس | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


