| 79600 | نماز کا بیان | نماز کے فرائض و واجبات کا بیان |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ کچھ روز قبل میں نماز پڑھ رہا تھا اور میرے پیچھے ایک مولانا صاحب بیٹھے تھے۔سجدے کے دوران شاید زمین سے میرا ایک پاؤں کچھ دیر کے لیے اٹھ گیا،سلام پھیرنے کے بعد ان مولانا صاحب نے مجھ سے کہا چونکہ آپ کا پاؤں سجدے کے دوران زمین سے اٹھ گیا تھا،اس لیے آپ کی نماز نہیں ہوئی۔لہذا آپ نماز دوبارہ پڑھیں،تو پاس بیٹھے ایک شخص نے بعد میں مجھ سے کہا کہ میں نے تو مسئلہ یہ سنا ہوا ہے کہ اگر ایک پاؤں اٹھ جائے تونماز نہیں ٹوٹتی۔مہربانی فرما کر آپ مسئلے کی وضاحت فرما دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر سجدہ کی حالت میں دونوں پاؤں میں سے کسی ایک پاؤں کی ایک انگلی بھی ایک مرتبہ "سبحان اللہ" کہنے کے بقدر زمین پر لگ گئی، تو اس سے سجدہ کا فرض ادا ہو جائے گا، البتہ بلا عذر کسی ایک پاؤں کو بھی سجدہ میں اٹھانا مکروہ ہے، اور اگر عذر ہو تو مکروہ نہیں ہے۔
واضح رہے کہ اگر بلا عذر دونوں پاؤں پورے سجدے کے دوران اٹھے رہے اور بالکل بھی زمین پر نہیں لگے، تو ایسی صورت میں نماز نہیں ہوگی، اور نماز کو لوٹانا ضروری ہوگا۔البتہ اگر کسی معقول عذر کی وجہ سے پاؤں زمین سے نہ لگائے جا سکے تو نماز ادا ہو جائے گی۔
حوالہ جات
قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ: وحقيقة السجود وضع بعض الوجه على الأرض.
(البحر الرائق:1/309)
قال العلامۃ علي بن أبي بكر المرغيناني رحمہ اللہ: ولأبي حنيفة رحمه الله تعالى أن السجود يتحقق بوضع بعض الوجه وهو المأمور به.(الھدایۃ:1/51)
قال العلامۃ أبو بكر بن علي الزَّبِيدِيّ اليمني رحمہ اللہ: ومن شرط جواز السجود :أن لا يرفع قدميه فيه ،فإن رفعهما في حال سجوده لا تجزئه السجدة ،وإن رفع أحدهما قال في المرتبة :يجزئه مع الكراهة.
(الجوهرة النيرة:1/53)
قال العلامۃ عثمان بن علي الزيلعي رحمہ اللہ: قوله:) وأما وضع القدمين إلى آخره) وسمى كل واحد من هذه الجملة عظما باعتبار الجملة......ولو وضع إحدى رجليه يجوز...... وأما افتراض وضع القدم فلأن السجود مع رفعهما بالتلاعب أشبه منه بالتعظيم والإجلال ،ويكفيه وضع إصبع واحدة.
(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق:1/107)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: وفيه يفترض وضع أصابع القدم ولو واحدة نحو القبلة وإلا لم تجز، والناس عنه غافلون ....... إلا بعذر ،وإن صح عندنا.
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: وقال في الحلية: والأوجه على منوال ما سبق هو الوجوب ؛لما سبق من الحديث اهـ أي على منوال ما حققه شيخه من الاستدلال على وجوب وضع اليدين والركبتين، وتقدم أنه أعدل الأقوال فكذا هنا، فيكون وضع القدمين كذلك ،واختاره أيضا في البحر والشرنبلالية.
.(الدر المختار مع ردالمحتار :1/499)
قال جمع من العلماء رحمھم اللہ: ولو سجد ولم يضع قدميه على الأرض لا يجوز، ولو وضع إحداهما جاز مع الكراهة إن كان بغير عذر..... ووضع القدم بوضع أصابعه، وإن وضع أصبعا واحدة فلو وضع ظهر القدم دون الأصابع بأن كان المكان ضيقا، إن وضع إحداهما دون الأخرى تجوز صلاته ،كما لو قام على قدم واحدة.،كذا في الخلاصة.(الفتاوی الھندیۃ:1/70)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: ومنها السجود بجبهته وقدميه، ووضع إصبع واحدة منهما شرط .
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: قوله :وقدميه، يجب إسقاطه لأن وضع إصبع واحدة منهما يكفي كما ذكره بعد ح. وأفاد أنه لو لم يضع شيئا من القدمين لم يصح السجود.(الدر المختار مع ردالمحتار :1/447)
(احسن الفتاویٰ:3/398)
محمد عمر بن محمدالیاس
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
27رجب،1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمر بن محمد الیاس | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


