03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زکوۃ کی رقم مدرسہ میں لگانے کا حکم
79983.62زکوة کابیانمستحقین زکوة کا بیان

سوال

کیا مدرسہ کی تعمیر میں زکوۃ کی رقم لگا سکتے ہیں یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زکوة کی رقم   کو  مدرسے کی تعمیر میں لگانا جائز نہیں ہے، البتہ اگر یہ رقم کسی مستحق زکوة کو دے دی جائے، اور وہ اپنی خوشی سے مسجد اور مدرسے کی تعمیر میں بطورِ صدقہ و عطیہ دیدے، تو ایسی صورت میں اس رقم کا استعمال مسجد اور مدرسے کی تعمیر میں لگانا جائز ہوگا۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 188)

لا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين، ولا يشترى بها عبد يعتق، ولا يدفع إلى أصله، وإن علا، وفرعه، وإن سفل كذا في الكافي.

      عدنان اختر

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

۲۱؍شعبان ؍۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عدنان اختر بن محمد پرویز اختر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب