03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کے لیے طلاق کے الفاظ سننا ضروری نہیں
79980طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

شوہر اور بیوی کی لڑائی کے دوران غصے میں شوہر کے منہ سے یہ الفاظ نکلے"میں نے تمہیں تین دفعہ طلاق دی"۔شوہر نے طلاق نامہ پر دستخط کردیے۔بقول بیوی کے کہ میں نے ایسے الفاظ نہیں سنےاور نہ ہی طلاق نامہ پر دستخط کیے۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ طلاق ہوچکی ہے یا اس میں گنجائش باقی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ  جس طرح زبان سے طلاق واقع ہوجاتی ہے اسی طرح تحریر سے یا طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے اور طلاق واقع ہونے کے لئے بیوی کا حاضر ہونا یا بیوی کا طلاق کے الفاظ سننا بھی ضروری نہیں ہے۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں "میں نے تمہیں تین طلاق دی"اور مزید یہ کہ  طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے۔اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی  حلالہ کے بغیر آپ دونوں کا نکاح ہوسکتا ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 246)

 إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 230)

(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية۔

الفتاوى الهندية (1/ 473)

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 187)

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة۔

محمدمصطفیٰ رضا

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

21/رجب/1444ھ

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مصطفیٰ رضا بن رضا خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب