| 79963 | خرید و فروخت کے احکام | بیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان |
سوال
زید جیولری کا کام کرتا ہے اور زید نے ایک بڑے سونے کے تاجر کے پاس سونا خریدنے اور بیچنے کے لئے پانچ لاکھ روپے کی رقم امانتاً رکھوائی ہے جس سے زید موبائل فون کے زریعہ سونا خریدتا ہے اور فروخت بھی اُسی کو کرتا ہے۔سونے کی قیمت عموماًایک جگہ برقرار نہیں رہتی،کبھی بڑھتی ہے تو کبھی کم ہوتی ہے۔
کیااس صورت میں موبائل فون پر یہ بیع کرنا جائز ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ کسی بھی منقولی چیز کو قبضہ کرنے سے پہلے آگے فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔لہٰذا مذکورہ صورت میں فون پر سونا خریدنا تو جائز ہے لیکن اس پر قبضہ کئے بغیر اسی شخص کو جس سے سونا خریدا گیا ہے، بیچنا جائز نہیں ۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 147)
(لا) يصح اتفاقا ككتابة وإجارة و (بيع منقول) قبل قبضه ولو من بائعه۔
البناية شرح الهداية (8/ 247)
ومن اشترى شيئا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه؛ لأنه - عَلَيْهِ السَّلَامُ - نهى عن بيع ما لم يقبض؛ لأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك۔
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (4/ 80)
(لا بيع المنقول) أي لا يجوز بيع المنقول قبل القبض لما روينا ولقوله - عليه الصلاة والسلام - «إذا ابتعت طعاما فلا تبعه حتى تستوفيه» رواه مسلم وأحمد ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك قبل القبض؛ لأنه إذا هلك المبيع قبل القبض ينفسخ العقد فيتبين أنه باع ما لا يملك والغرر حرام لما روينا۔
محمدمصطفیٰ رضا
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
20/شعبان/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مصطفیٰ رضا بن رضا خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


