| 79995 | نکاح کا بیان | نکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں |
سوال
میرا نام عبدالکریم جانوری چانڈیو ہے ۔ الحمد للہ اب میری بیٹی عالمہ بن چکی ہے ۔ جب مدرسہ میں پڑھ رہی تھی تو اسکے رشتے کے لیئے میری بیوی نے باپ شریک بھتیجے بھائی سعید کو کہا تھا کہ اگر تم بھی سعید بیٹے ''عالم بنو ، تبلیغ میں چار مہینے لگاو، دیندار بنو ،نمازی بنو، داڑھی رکھو ، جب تک میری بیٹی عالمہ بنے ، تو میں آپکو اپنی بیٹی کا رشتہ دونگی'' ۔ کیونکہ لڑکی اگر عالمہ ہو تو کوشش کرنی چاہیئے کہ شادی بھی کسی دیندار عالم سے کرائی جائے۔ اسکے بعد جب میری بیٹی الحمد عالمہ بن گئی تو بھائی سعید کا یہ حال تھا کہ نہ سعید بیٹے نے مدرسہ میں داخلہ لیا،نہ تبلیغ میں چار مہینے لگائے ، نہ داڑھی رکھی اور نہ ہی پکے نمازی بنے ۔ اس بات پر ہمارا دل خراب ہوگیا ۔ میں نے سعید والوں کو رشتہ نہ کرنے کا جواب دیدیا ۔ پھر ہم نے ایک عالم دین کے ساتھ رشتہ کرنا چاہا ۔ ہمیں عالم دین رشتے کی تلاش کے دوران ایک عالم دین مل گیا ۔ جس کا نام بھائی اصغر علی ہے ۔ جب میں بھائی اصغر علی سے رشتہ کر رہا تھا ۔ تو میں نےاپنی بیوی اور اپنی عالمہ بیٹی سے مشورہ کیا کہ بیٹی آپ کا رشتہ آپ کے کزن بھائی سعید سے کروں یا عالم دین اصغر علی سے کروں ۔بھائی اصغر علی عالم دین تو ہیں لیکن عمر میں آپ سے بہت بڑاےہیں۔ اور سعید بھائی تقریبا آپکی عمر کے بھی ہیں اور رشتے میں آپکے باپ شریک کزن بھی ہیں۔ میرا اور میری بیوی اور میری بیٹی کا آپس میں مشورہ ہوا ۔ جس میں میری بیٹی نے صاف دوٹوک جواب دیدیا کہ میں سعید سے نکاح نہیں کرونگی کیونکہ وہ عالم نہیں ہیں۔ اور میں شادی عالم دین سے کرونگی مجھے بنات مدرسہ میں پڑھانا ہے ۔ اگر اصغر علی عمر میں مجھ سے بڑے ہیں تو کیاہوا ، دیندار عالم دین تو ہیں۔ مجھے مدرسہ پڑھانے میں اور شرعی پردہ کرنے میں آسانی لگے گی ۔ حدیث پاک میں بہت تاکید ہے کہ نکاح دینداری کی بنیاد پر کرو ۔ پھر مشورہ میں ہم نے طے کیا کہ ہم عالم دین بھائی اصغر علی سے رشتہ کریں گے ۔اور سعید بھائی کو رشتہ نہ کرنےکا جواب دیدیا ۔ بھائی اصغر علی سے رشتے کی الحمدللہ بات پکی ہوگئی۔ جب بھائی اصغر علی سے نکاح کی بات طے کر رہے تھے ۔ تو اتنے میں سعید بھائی کے چچا جو باپ شریک چچا ہیں۔ سگے چچا نہیں ہیں۔ جس کا نام بھائی غلام مصطفی ہے ۔ اس نے اعتراض کیا کہ ہم یہ رشتہ نھیں ہونے دینگے ۔ یہ لڑکی میرے بھتیجے سعید کی منگیتر ہے ۔ ہم نے پوچھا بھائی آپکے بھتیجے کی منگیتر کیسے ہوگئی۔ تو غلام مصطفی نے کہا "آپ نے کہا تھا سعید تبلیغ میں جائے ،داڑھی رکھے ،نمازی بنے تو رشتہ دیں گے "۔تو ہم نے پوچھا کہ بھائی سعید تو نہ تبلیغ میں گیا ہے ،نہ داڑھی رکھی ہے ، نہ پکا نمازی ہے ۔ اس پر غلام مصطفی نے کہا آپ نے کہا تھا ہم رشتہ دینگے بس اس بات پر یہ ہماری منگیتر ہوگئی ۔داڑھی نہیں رکھی ،تبلیغ میں نہیں گیا ،پکا نمازی نہیں بنا تو کیا ہوا۔ اب تبلیغ میں جائے گا۔ آپ کو میں یہ رشتہ نہیں کرنے دونگا یہ لڑکی سعید کی منگیتر ہے ۔ غلام مصطفی نے عالم دین بھائی اصغر علی کو بھی مختلف لوگوں سے پیغام بھجوادیا کہ یہ لڑکی ہماری منگیتر ہے ۔ آپ یہ رشتہ نہ کرنا۔ بھائی اصغر صاحب نے ہم سے پوری بات معلوم کی تو میں نے بتایاکہ نہ باقاعدہ کوئی رشتہ کی بات پکی ہوئی ہے ،نہ کوئی مٹھائی تقسیم کی ہے ،نہ کوئی رسم پوری کی ہے،نہ دودھ پیاہے ۔ہمارے ہاں جب رشتے کی پکی بات ہوتی ہے تو دودھ پلاتے ہیں ۔ نہ لڑکے والوں نے کبھی کوئی خرچی بھیجی ہے ۔بس صرف ہم نے کہا تھا سعید عالم بنے ،تبلیغ میں جائے، داڑھی رکھے ،پکا نمازی بنے تو ہم ان شاء اللہ رشتہ کرینگے ۔سعید بھائی نے کوئی بات پوری نہیں کی ۔ ہم نے اس کو رشتے کا جواب دے دیا ہے ۔ اور آپ سے رشتہ کرتے ہیں اس پر غلام مصطفی یہ مسئلہ کر رہا ہے ۔ بھائی اصغرعلی بھی بڑے حیران ہوئے کہ اتنی سی بات پر منگیتر کیسے ہوگئی۔ خیر بھائی اصغر علی کو ہم نے تسلی دی اور میری بیٹی کا بھائی اصغر علی سے نکاح ہوگیاہے مگررخصتی نہیں ہوئی ہے ۔ اب بھائی غلام مصطفی کہتاہے کہ میں اصغر علی کو اور اس کی بیوی کو اور عبدالکریم کو اور عبدالکریم کی بیوی بچوں سب کو قتل کرونگا ۔۔۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ
۱۔ شریعت محمدی کے مطابق بھائی غلام مصطفی کو یہ حق حاصل ہیکہ بھائی اصغر علی کو نکاح کرنے سے روکیں اور اتنی سی بات پر منگیتر کہتے ہوئے نکاح سے اعتراض کرنے اور دھمکانے کی اسکو اجازت ہے ؟
۲۔کیا بھائی اصغر علی شریعت محمدی میں پابند ہیں کہ غلام مصطفی کے کہنے پر نکاح نہ کریں؟
۳۔ اصغرعلی نے غلام مصطفی کے منع کرنے کہ باوجود پھر بھی نکاح کیا تو اس بات پر شریعت محمدی میں بھائی اصغر علی غلام مصطفی کا مجرم ہے یا غلام مصطفی نکاح سے روک کر مجرم بن رہا ہے ؟
۴۔ اگر اس بات پر غلام مصطفی اگر کسی کو قتل کرے تو غلام مصطفی کےلیے شرعی حکم کیا ہے ۔
۵۔ جس کو غلام مصطفی قتل کرے تو اس کے لیے شہید کا درجہ ہے یا نہیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۔ منگنی کی حقیقت یہ ہے کہ دونوں خاندانوں کے چند افراد ایک مجلس میں بیٹھ کر یہ طے کرتے ہیں کہ فریق ثانی نے نکاح کا پیغام قبول کرلیا ہے ،طے شدہ شرائط کے مطابق آپس میں نکاح ہوگا ۔جبکہ ذکر کردہ حالات کے مطابق مذکورہ صورت میں اس طرح کی کوئی بات نہیں پائی گئی بلکہ انہوں نے صرف سعید بھائی کو یہ پیش کش کی تھی کہ اگر وہ فلاں فلاں کام کریں تو ان کو رشتہ دے دیا جائے گا تو یہ منگنی کا وعدہ ہوا نہ کہ منگنی لہذا ان سب کاموں کے نہ کرنے کی صورت میں آپ اپنی بیٹی کا رشتہ کہیں بھی کرنے میں آزاد ہیں اور بھائی غلام مصطفی کا نکاح سے روکنا درست نہیں۔
۲۔ ذکر کردہ حالات کے مطابق بھائی اصغر علی نکاح نہ کرنے کے پابند نہیں بلکہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق جہاں نکاح کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔
۳۔ کسی بھی مسلمان کا دوسرے کو ناحق دھمکانا جائز نہیں، حدیث نبوی ﷺ میں اس پر سخت وعید آئی ہے۔ لہذا ذکر کردہ حالات کے مطابق بھائی غلام مصطفی کا اس طرح دھمکانا درست نہیں۔
۴۔ اللہ نہ کرے اگر غلام مصطفی صاحب کسی کو قتل کر دیتے ہیں تو شرعی حکم یہ ہوگا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رجوع کر کے ان کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے۔
۵۔ ذکر کردہ حالات میں اگر اپنے گھر کی عزت کے دفاع کرتے ہوئے کوئی قتل کر دیا جائے تو وہ شہید شمار ہو گا۔
حوالہ جات
فقه البیوع (1/89):
الذی یتلخص من القرآن والسنة أن الوعد إذا کان جازماً یجب الوفاء به دیانةً، ویأثم الإنسان بالإخلاف فیه، إلا إذا کان لعذر مقبول.أما لزوم الوفاء قضاءً، فالأصل فیه أن مجرد الوعد لایحکم به فی القضاء؛ لأن المواعید متنوعة، ولیس من مهام القضاء أن یتدخل فی کل مایجری بین الناس من کلام، فمن قبل من الآخر خطبته لبنته، فإن ذلك وعد منه بتزویجه إیاها، و قد یبدو له أنه لیس من مصلحة البنت أن یفی بهذا الوعد، فلو قلنا إن المواعید کلها لازمة فی القضاء، لزم أن یرفع الخاطب هذه القضیة إلی القاضی و یجبر القاضی والد المخطوبة علی أن یزوج الخاطب إیاها، و هذا مما فیه حرج ظاهر.
مسند الربيع (ص: 274)
711 أبو عبيدة عن جابر بن زيد قال بلغني عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من روع مسلما روعه الله يوم القيامة ومن أفشى سر أخيه أفشى الله سره يوم القيامة على رؤوس الخلائق
التيسير بشرح الجامع الصغير ـ للمناوى (2/ 813)
( من روع مؤمنا ) أي فزعه وأخافه ( لم يؤمن الله تعالى روعته ) أي لم يسكن الله تعالى قلبه ( يوم القيامة ) حين يفزع الناس من هول الموقف
جامع الأصول في أحاديث الرسول (2/ 739)
1240 - ( م ط ت ) أبو هريرة - رضي الله عنه - :قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ما تَعُدُّونَ الشهيدَ فيكم ؟ قالوا : يا رسول الله ، مَنْ قُتِلَ في سبيل الله فهو شهيدٌ ، قال : إنَّ شُهدَاءَ أُمَّتي إذا لَقليلٌ ، قالوا: فَمن هُمْ يا رسولَ الله ؟ قال : من قُتِلَ في سبيل الله فهو شهيدٌ، ومن مات في سبيل الله فهو شهيد ، ومن مات في الطاعون فهو شهيد ،ومن مات في البَطْنِ فهو شهيد ، قال ابنُ مِقْسَمٍ : أشهدُ على أبيك- يعني أبا صالح- أنَّهُ قال :والغريق شهيدٌ». هذه رواية مسلم.
ولی الحسنین
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
۲۶ شعبان ۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ولی الحسنین بن سمیع الحسنین | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


