03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کسی کے دھمکانے پر طلاق دینےکا حکم
79996طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میرا نام عبدالکریم جانوری چانڈیو ہے ۔ الحمد للہ اب میری بیٹی عالمہ بن چکی ہے ۔ جب مدرسہ میں پڑھ رہی تھی تو اسکے رشتے کے لیئے میری بیوی نے باپ شریک بھتیجے بھائی سعید کو کہا تھا کہ اگر تم بھی سعید بیٹے ''عالم بنو ، تبلیغ میں چار مہینے لگاو، دیندار بنو ،نمازی بنو، داڑھی رکھو ، جب تک میری بیٹی عالمہ بنے ، تو میں آپکو اپنی بیٹی کا رشتہ دونگی'' ۔ کیونکہ لڑکی اگر عالمہ ہو تو کوشش کرنی چاہیئے کہ شادی بھی کسی دیندار عالم سے کرائی جائے۔ اسکے بعد جب میری بیٹی الحمد عالمہ بن گئی تو بھائی سعید کا یہ حال تھا کہ نہ سعید بیٹے نے مدرسہ میں داخلہ لیا،نہ تبلیغ میں چار مہینے لگائے ، نہ داڑھی رکھی اور نہ ہی پکے نمازی بنے ۔ اس بات پر ہمارا دل خراب ہوگیا ۔ میں نے سعید والوں کو رشتہ نہ کرنے کا جواب دیدیا ۔ پھر  ہم نے ایک عالم دین کے ساتھ رشتہ کرنا چاہا ۔ ہمیں عالم دین رشتے کی تلاش کے دوران ایک عالم دین مل گیا ۔ جس کا نام بھائی اصغر علی ہے ۔ جب میں بھائی اصغر علی سے رشتہ کر رہا تھا ۔ تو میں نےاپنی بیوی اور اپنی عالمہ بیٹی سے مشورہ کیا کہ بیٹی آپ کا رشتہ آپ کے کزن بھائی سعید سے کروں یا عالم دین اصغر علی سے کروں ۔بھائی اصغر علی عالم دین تو ہیں لیکن عمر میں  آپ سے  بہت بڑاےہیں۔ اور سعید بھائی تقریبا آپکی عمر کے بھی ہیں اور رشتے میں آپکے باپ شریک کزن بھی ہیں۔ میرا اور میری بیوی اور میری بیٹی کا آپس میں مشورہ ہوا ۔ جس میں میری بیٹی نے صاف دوٹوک جواب دیدیا کہ میں سعید سے نکاح نہیں کرونگی کیونکہ وہ عالم نہیں ہیں۔ اور میں شادی عالم دین سے کرونگی مجھے بنات مدرسہ میں پڑھانا ہے ۔ اگر اصغر علی عمر میں مجھ سے بڑے ہیں تو کیاہوا ، دیندار عالم دین تو ہیں۔ مجھے مدرسہ پڑھانے میں اور شرعی پردہ کرنے میں آسانی لگے گی ۔ حدیث پاک میں بہت تاکید ہے کہ نکاح دینداری کی بنیاد پر کرو ۔ پھر مشورہ میں ہم نے طے کیا کہ ہم عالم دین بھائی اصغر علی سے رشتہ کریں گے ۔اور سعید بھائی کو رشتہ نہ کرنےکا جواب دیدیا ۔ بھائی اصغر علی سے رشتے کی الحمدللہ بات پکی ہوگئی۔ جب بھائی اصغر علی سے نکاح کی بات طے کر رہے تھے ۔ تو اتنے میں سعید بھائی کے چچا جو باپ شریک چچا ہیں۔ سگے چچا نہیں ہیں۔ جس کا نام بھائی غلام مصطفی ہے ۔ اس نے اعتراض کیا کہ ہم یہ رشتہ نھیں ہونے دینگے ۔ یہ لڑکی میرے بھتیجے سعید کی منگیتر ہے ۔ ہم نے پوچھا بھائی آپکے بھتیجے کی منگیتر کیسے ہوگئی۔ تو غلام مصطفی نے کہا  "آپ نے کہا تھا سعید تبلیغ میں جائے ،داڑھی رکھے ،نمازی بنے تو رشتہ دیں گے "۔تو ہم نے پوچھا کہ بھائی سعید تو نہ تبلیغ میں گیا ہے ،نہ داڑھی رکھی ہے ، نہ پکا نمازی ہے ۔ اس پر غلام مصطفی نے کہا آپ نے کہا تھا ہم رشتہ دینگے بس اس بات پر یہ ہماری منگیتر ہوگئی ۔داڑھی نہیں رکھی ،تبلیغ میں نہیں گیا ،پکا نمازی نہیں بنا تو کیا ہوا۔ اب تبلیغ میں جائے گا۔ آپ کو میں یہ رشتہ نہیں کرنے دونگا یہ لڑکی سعید کی منگیتر ہے ۔ غلام مصطفی نے عالم دین بھائی اصغر علی کو بھی مختلف لوگوں سے پیغام بھجوادیا کہ یہ لڑکی ہماری منگیتر ہے ۔ آپ یہ رشتہ نہ کرنا۔ بھائی اصغر صاحب نے ہم سے پوری بات معلوم کی تو میں نے بتایاکہ نہ باقاعدہ کوئی رشتہ کی بات پکی ہوئی ہے ،نہ کوئی مٹھائی تقسیم کی ہے ،نہ کوئی رسم پوری کی ہے،نہ دودھ پیاہے ۔ہمارے ہاں جب رشتے کی پکی بات ہوتی ہے تو دودھ پلاتے ہیں ۔  نہ لڑکے والوں نے کبھی کوئی خرچی بھیجی ہے ۔بس صرف ہم نے کہا تھا سعید عالم بنے ،تبلیغ میں جائے، داڑھی رکھے ،پکا نمازی بنے تو ہم ان شاء اللہ رشتہ کرینگے ۔سعید بھائی نے کوئی بات پوری نہیں کی ۔ ہم نے اس کو رشتے کا جواب دے دیا ہے ۔ اور آپ سے رشتہ کرتے ہیں اس پر غلام مصطفی یہ  مسئلہ کر رہا ہے ۔ بھائی اصغرعلی بھی بڑے حیران ہوئے کہ اتنی سی بات پر منگیتر کیسے ہوگئی۔ خیر بھائی اصغر علی کو ہم نے تسلی دی اور میری بیٹی کا بھائی اصغر علی سے نکاح ہوگیاہے مگررخصتی نہیں ہوئی ہے ۔ اب بھائی غلام مصطفی کہتاہے کہ میں اصغر علی کو اور اس کی بیوی کو اور عبدالکریم کو اور عبدالکریم کی بیوی بچوں سب کو قتل کرونگا ۔۔۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ

غلام مصطفی کے دھمکانے سے بھائی اصغر علی شریعت محمد ی میں پابند ہے کہ بیوی کو طلاق دے یا نہیں۔ اب غلام مصطفی کہتا ہے کہ اصغر علی بیوی کو طلاق دے ۔ تو اب اصغر علی کو طلاق دینا چاہیئےیا غلام مصطفی کو توبہ کرنا چاہیئے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اپنی بیوی کو طلاق دینے یا نہ دینے میں بھائی اصغر کسی طرح کے پابند نہیں ہیں۔البتہ اگر وہ غلام مصطفی صاحب کے دھمکانے پر زبانی طلاق دے دیتے ہیں تو وہ طلاق شرعا واقع ہوگی۔غلام مصطفی صاحب کا اس طرح دھمکانا شرعاً درست نہیں ان کو اپنے اس فعل کی اللہ کے حضور سچے دل سے معافی مانگنی چاہیے۔

حوالہ جات

الدرالمختار: 3/236

وفي البحر: أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لاتطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا

الدرالمختار : 3/234

ویقع طلا ق کل زوج   بالغ عاقل ولو عبدا أو مکرھافان طلاقہ صحیح...

الھدایۃ:1/224

طلاق المکرہ واقع 

ولی الحسنین

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

 ۲۳ شعبان ۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ولی الحسنین بن سمیع الحسنین

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب