03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاقوں کاحکم
80105طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ

میں نے اپنی بیوی سے شادی کے دو ماہ بعد چھ ماہ کا ایلاء کیا تھااورپھر مدت میں قریب نہ جانے  کی وجہ سے بقول علماء ایک طلاق بائن خیال کرکے دوبارہ نکاح کیاتھا،شادی کے دو سال بعد پھر جھگڑا ہوا تو میں نے اپنی اسی بیوی کو ایک طلاق ِصریح دیدی تھی یعنی لفظ طلاق ایک دفعہ کہہ دیاتھا،پھر چار سال کے بعد جھگڑا ہوا تو پھرمیں نے ایک طلاقِ صریح دیدی یعنی لفظِ طلاق ایک دفعہ کہاتھا،پھرتین طلاق سمجھتے ہوئے لڑکی والوں کے تقاضے پر ایک تحریری طلاق کا نوٹس جوایک اسٹام فروش نے کمپیوٹرپرلکھا تھامیں نے اس پر دستخط کرکے بھیج دی، میں نے اس نوٹس کو پہلی طلاق کا نوٹس سمجھتے ہوئے دستخط کیاتھا۔

اب پوچھنایہ ہےکہ :

    مذکورہ بالاتحریرکردہ صورتوں میں کیامیری بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں ہیں یانہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسئولہ ٍ ٍصورت میں تین طلاقیں واقع  ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہے،پہلی طلاق ایلاء سے دوسری دوسال کے بعدصریحاً دینے سے اورتیسری چارسال کے بعد صریحاً دینے سے،لہذا اب میاں بیوی میں نہ رجوع ہوسکتا ہے اورنہ  ہی حلالہ کے بغیرنیا نکاح  ۔

حوالہ جات

فی القرآن الکریم

قَوْلُهُ تَعَالَی:{الطَّلاقُ مَرَّتَانِ} [البقرة: 229] إلَى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230]

وفی صحيح البخاري (ص: 89)

حدثني محمد بن بشار حدثنا يحيى عن عبيد الله قال حدثني القاسم بن محمد عن عائشة أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبي أتحل للأول قال لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول.

وفی بدائع الصنائع، دارالكتب العلمية (3/ 187)

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

  20/10/1444ھ


 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب