| 80106 | طلاق کے احکام | بچوں کی پرورش کے مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
میرا اورمیری بیوی کے درمیان طلاق کے ذریعے جدائی ہوگئی ہے،میرااس کے بطن سے ایک لڑکا ہےجو تقریباًدو سال کی عمر کا ہے،پوچھنایہ ہے کہ وہ کس کے پاس رہے گا ؟ اس کا خرچہ کس کے ذمہ ہوگا؟کتناہوگا اورکس عمر تک ہوگا؟میں ایک سرکاری ملازم ہوں اورمیری تنخواہ تقریباً 35000ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ لڑکے کی عمرسات سال ہونےتک اس کی پرورش کاحق شرعاًاس کی ماں کوحاصل ہےبشرطیکہ اس دوران وہ کوئی ایساکام نہ کرےجس سےاس کاحق ختم ہوجائے،اورسات سال کے بعد حق پرورش والد کوحاصل ہوگا۔
اگر مذکورہ بچے کا اپنا مال موجود نہ ہو تو لڑکے کے بالغ ہونے تک اس کی نان و نفقہ اپنی حیثیت اوربچے کی ضروریات کےمطابق والد کے ذمہ ہوگا۔
حوالہ جات
وفي الهداية (٢/٤٣٨)
وإذا وقعت الفرقة ين الزوجين فالأم أحق بالولد...... والنفقة على الأب.....والأم والجدة أحق بالغلام حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويلبس وحده ويستنجي وحده وفي الجامع الصغيرحتى يستغني......والخصاف رحمه الله قدر الاستغناء بسبع سنين اعتبارا للغالب والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض.
وفي تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (3/ 48)
(والأم والجدة أحق به) أي بالغلام (حتى يستغني ، وقدر بسبع سنين) وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده ، وفي الجامع الصغير حتى يستغني والمعنى واحد ، وقدره الخصاف بسبع سنين اعتبارا للغالب ، وهو قريب من الأول بل عينه لأنه إذا بلغ سبع سنين يستنجي وحده ألا ترى إلى ما يروى عنه - عليه الصلاة والسلام - أنه قال «مروا صبيانكم بالصلاة إذا بلغوا سبع سنين» والأمر بالصلاة لا يكون إلا بعد القدرة على الطهارة .
وفي الفتاوى الهندية (1/ 563،561)
وبعد الفطام يفرض القاضي نفقة الصغار على قدر طاقة الأب وتدفع إلى الأم حتى تنفق على الأولاد، فإن لم تكن الأم ثقة تدفع إلى غيرها لينفق على الولد.
وفي الدرالمختار(3/556)
باب الحضانة(تثبت للأم )النسبية(ولو)كتابية أومجوسية أو (بعد الفرقة إلا أن تكون مرتدة).....(أو غيرمأمونة)ذكره في المجتبى بأن تخرج كل وقت وتترك الولد ضائعا.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
20/10/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


