| 80126 | جائز و ناجائزامور کا بیان | غیبت،جھوٹ اور خیانت کابیان |
سوال
میری اہلیہ نمازی اور عبادت گزار ہے، لیکن وہ جب اپنی بہنوں سے بات کرتی ہے تو وہ میرے گھر والوں کی برائیاں کرتی ہے اور مجھے کہتی ہے کہ میں صرف اپنی ہی بات کرتی ہوں اور میرے سے جھوٹ بولتی ہے، کیا ایسا کرنا اس کے لیے درست ہے؟اس کی نمازیں اور عبادت قبول ہوگی ؟تفصیل سے جواب دیں۔ شکریہ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جھوٹ بولنا اور کسی کی برائی کرنا یا غیبت کرنا تو ویسے بھی کسی سےبھی ہواور کسی کی بھی ہو حرام اور گناہ کبیرہ ہے، چنانچہ قرآن مجید میں جھوٹ بولنے کی مذمت بت پرستی کے ساتھ کی گئی ہےاور پھر اپنے سرپرست والد یا شوہر وغیرہ سے جھوٹ بولنا تو اور بھی زیادہ برا اور قبیح ہے،البتہ کسی کی جان یا مال یا عزت کو نقصان سے بچانے کے لیے یا کسی انتشارواختلاف اور فتنے کو دور کرنے کے لیے گول مول بات کرلینا جائز ہے۔
جھوٹ بولنا اگر چہ خود گناہ کبیرہ ہے ،لیکن اس سے نماز کی صحت پر تو کوئی اثر نہیں پڑتا، البتہ نمازاور عبادات کی روحانیت ضرور متاثر ہوتی ہے،چنانچہ حدیث میں وارد ہے کہ جو شخص روزہ رکھ کر بھی جھوٹ اور غیبت وغیرہ نہ چھوڑے تو اللہ تعالی کو اس کے بھوکا اور پیاسا رہنےکی کو ئی حاجت نہیں،البتہ جھوٹے شخص کو نماز چھوڑنے کے بجائےاس نیت سے پورے اہتمام سے ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ مجھ سے گناہ بالخصوص جھوٹ جیسا کبیرہ گناہ چھوٹ جائے، اس لیے کہ قرآن کریم میں ہے کہ نماز گناہوں سے روکتی ہے ۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۲شوال۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


