| 80121 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
محترم مفتی صاحب! ہمارے خاندان میں مشترکہ جائیداد بہت تھی، مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ میرے والد صاحب کے چھوٹے بھائی وغیرہ نے میرے دادا کی جائیداد فروخت کی اور جو رقم وصول کی، میرے والد کواس میں سے حصہ نہیں دیا۔میرے والد کا انتقال ہوگیاہےاور چاچا وغیرہ کا بھی انتقال ہو گیاہے، اب میں نے کچھ جائیداد فروخت کی، اس میں دادا کا حصہ ہے تو کیامیرے والد کوداداکی جائیدادسے جو حصہ نہیں ملا ،دادکےحصہ میراث کواس کے بدلے میں مقررکرسکتا ہوں اور کیااسےمیرے والد کے میراث میں تقسیم کرنے کی اجازت ہے؟مہربانی فرما کےرہنمائی فرمادیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر دادا فوت نہیں ہوئے اور آپ کے چاچا نے دادا کی جائیدادان کی اجازت سے فروخت کی تو ایسی صورت میں آپ کے والد دادا کی زندگی میں ان کی کسی قسم کی جائیداد میں حق وراثت نہیں رکھتے، البتہ اگر داد انے اپنی اولاد میں اپنی جائیداد زندگی میں تقسیم کی یا کسی ایک وارث کو دی اور آپ کے والد کو بلا کسی معقول وجہ کے محروم رکھاتو ایسا کرنا شرعا جائز نہیں،لیکن اب آپ کےلیے والد کے انتقال کے بعد زندگی میں دادا کی جائیداد میں سے حصہ نہ دیئےجانے کے عوض داداکے حصہ میراث کوروک لینا اور والد کے دیگر ورثہ میں تقسیم کرنا درست نہیں۔
اگرداداکاانتقال آپ کےوالدصاحب کی زندگی میں ہواہےتوداداکی کل میراث میں آپ کےوالدکاحق بھی ہے،جسےدیگرورثہ کےساتھ باہمی تقسیم کےذریعہ حاصل کرسکتے ہیں،اگرانہوں نےاپنےحصوں کےمطابق دادا کی جائیداد سےحصہ لیاتوآپ بھی اپنےوالدکے حصے کےمطابق جائیدادمیں سےلے سکتےہیں۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۳شوال۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


