03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسٹیٹ بینک میں ملازمت کا حکم
80138سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

سوال یہ ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان میں ایسی ملازمت کرنے کی گنجائش کیسے ہے جس میں سود سے براہ راست کوئی تعلق نہ ہو ؟ کیونکہ آمدنی کا تقریباً تمام حصہ سود سے ہی آ رہا ہے۔ براہ کرم وضاحت کیجئے گا۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا۔

وضاحت: سائل نے سوال کے ساتھ 138 صفحات پر مشتمل اسٹیٹ بینک کا 2021-2022کا فائنانشل سٹیٹمنٹ بھی بھیجا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حلال اور حرام سے مخلوط مال والے ادارے میں ملازمت کے جواز اور عدم جواز کا تعلق ادارے میں موجود کل حلال اور حرام مال سے ہوتا ہے صرف حلال آمدن یا حرام آمدن سے نہیں ہوتا ، یعنی ادارےمیں موجود کل مال (PRINCIPAL AMOUNT+PROFIT)میں اگر غلبہ حلال مال کا ہو تو وہاں ایسی ملازمت جس کا حرام سے براہ ِراست تعلق نہ ہو جائز ہے اور اگر کل مال میں غلبہ حرام کا ہوتو پھر وہاں ملازمت ناجائز ہے چاہے اس کا تعلق براہِ راست حرام سے ہو یا نہ ہو۔ لہٰذا سوال میں ذکر کردہ یہ جملہ ٹھیک نہیں ہے کہ اسٹیٹ بینک کا سارا آمدن سود سے ہے تو ایسی ملازمت جائز کیسے؟

حکومت اور ریاست کی تمام کمائی جو اسٹیٹ بینک میں ریزرو(Reserve) کے طور پر پڑی ہے وہ اسٹیٹ بینک کا راس المال(PRINCIPAL AMOUNT) کہلائے گا۔ حکومت اور ریاست کی یہ آمدنی ذیادہ تر ٹیکس سے حاصل ہوتی ہے جو کہ جائز ذریعہ ہے لہٰذ اس کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان میں ایسی ملازمت کرنے کی گنجائش ہے جس میں سود سے براہ راست کوئی تعلق نہ ہوکیونکہ اجرت کا مالِ حرام ہی سے ہونا متعین نہیں۔

حوالہ جات

(فقہ البیوع:2/1032)

قال شیخ الإسلام المفتی محمد تقی العثمانی دامت برکاتھم : فإن کانت الوظیفۃ تتضمن مباشرۃ العملیات الربویۃ ،أو العملیات المحرمۃ الأخری ،فقبول ھذہ الوظیفۃ حرام ،وذلک مثل : التعاقد بالربا أخذا ، أو عطاء ، أو حسم الکمبیالات ،أو کتابۃ ھذہ العقود ....... فإن الإدارۃ مسؤلۃ عن جمیع نشاطات البنک التی غالبھا حرام ، ومن کان مؤظفا فی البنک بھذا الشکل ،فإن راتبہ الذی یأخذ من البنک کلہ من الأکساب المحرمۃ .أما إذا کانت الوظیفۃ لیس لھا علاقۃ مباشرۃ بالعملیات الربویۃ،مثل وظیفۃ الحارث ،أو سائق السیارۃ .....أو تحویلھا من بلد إلی بلد ،فلا یحرم قبولھا إن لم یکن بنیۃ الإعانۃ علی العملیات المحرمۃ ، وإن کان الاجتناب عنھا أولی ، ولا یحکم فی راتبہ بالحرمۃ .

تکملۃ فتح الملھم : 1/575

 وقال فی تکملۃ فتح الملھم : روی الإمام المسلم رحمہ اللہ  عن عبد اللہ ،قال : لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا ، ومؤکلہ ،قال : قلت: وکاتبہ وشاھدیہ؟ قال : إنما نحدث بما سمعنا .قولہ : (وکاتبہ) : لأن کتابۃ الربا إعانۃ علیہ ،ومن ھنا ظھر أن التوظف فی البنوک الربویۃ لا یجوز ، فإن کان عمل الموظف فی البنک ما یعین علی الربا ،کالکتابۃ أو الحساب ،فذلک حرام لوجھین :الأول:إعانۃ علی المعصیۃ ،والثانی : أخذ الأجرۃ من المال الحرام  .ثم قال : فإذا وجد بنک معظم دخلہ حلال ،جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الأعمال ، واللہ أعلم .

الفتاوى الهندية (5/ 342)

ولا يجوز قبول هدية أمراء الجور لأن الغالب في مالهم الحرمة إلا إذا علم أن أكثر ماله حلال بأن كان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس به لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام فالمعتبر الغالب

عنایت اللہ عثمانی

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

25/شوال/ 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب