| 80129 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرانام محمدشاکر ہے،میرے والدصاحب کاانتقال ہوچکاہے، ان کی جائیدادتھی جوکہ 120 گزکامکان ہے،ہم سب بہن بھائیوں نے باہمی رضامندی سے اسے فروخت کرنے کافیصلہ کیاہے،جس کی مالیت14000000ہے،ورثہ میں میری تین بہنیں،میری والدہ اورہم دوبھائی ہیں ،میری بڑی بہن بیوہ ہےجس کااپناذاتی مکان ہے،اس کاایک بیٹااوردوبیٹیاں ہیں،دوسری بہن کی ایک بیٹی ہے اورشوہرحیات ہیں،تیسری بہن کابھی ایک بیٹااورشوہربھی ہیں ،چھوٹے بھائی کاایک بیٹااورایک بیٹی ہے،میرے دوبیٹے اورتین بیٹیاں ہیں ،میری والدہ دونوں بھائیوں کے ساتھ رہتی ہے۔،ایک لاکھ یااس سے کم کمیشن دیناہے جوکہ ابھی طے نہیں ہواہے،پوچھنایہ ہے کہ ہمارے درمیان یہ رقم کیسے تقسیم ہوگی ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم نے انتقال کے وقت جائیداد سمیت جومنقولہ اورغیرمنقولہ سامان اورنقدرقم چھوڑی ہے،اس میں سب سے پہلے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات اداکئے جائیں،اگریہ اخراجات کسی وارث نےاحسان کے طورپراداکردئیے ہیں تواس صورت میں یہ اخراجات ترکہ سے نہیں نکالے جائیں گے، اس کے بعددیکھیں اگر ان کے ذمہ کسی کےقرض کی ادائیگی باقی ہوتواس کواداکریں، اس کے بعددیکھیں اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال میں سے ایک تہائی کی حدتک اس پرعمل کریں،اس کے بعد باقی مال کوموجود ورثہ میں درج ذیل طریقہ کارکے مطابق تقسیم کردیں۔
|
نمبرشمار |
ورثہ کی تفصیل |
فیصدی حصہ |
ترکہ کی تقسیم |
|
1 |
بیوہ |
12.5 |
1750000 |
|
2 |
بیٹا |
25 |
3500000 |
|
3 |
بیٹا |
25 |
3500000 |
|
4 |
بیٹی |
12.5 |
1750000 |
|
5 |
بیٹی |
12.5 |
1750000 |
|
6 |
بیٹی |
12.5 |
1750000 |
|
ٹوٹل |
ورثہ:بیوہ،2بیٹے3بیٹیاں |
100 |
14000000 |
باقی مکان فروخت کرنے میں جوکمیشن کی رقم دینی ہوگی وہ سب پراپنے حصوں کے تناسب سے ہوگی۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۲۵/شوال ۱۴۴۴ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


