03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ہنڈی میں ادھار کاحکم
80151خرید و فروخت کے احکامبیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان

سوال

کسمٹر دکان میں آتاہے اور کہتاہے کہ میرے لیے 1000ریال بھیجو،500 نقد اور 500 ادھار،جب تنخواہ ملے گی تو میں دیدوں گا،یا تاریخ مقرر کرتاہے کہ اس تاریخ کو دیدوں گا،یہ صورت کیسی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کرنسیاں مختلف ہوں تودونوں میں سے کسی ایک کرنسی پرسودے کی مجلس میں قبضہ ضروری ہے،ادھار معاملہ ناجائز ہے،البتہ اس کی درست صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کسٹمر ہزار ریال کے بدلے دکاندار سے پاکستانی کرنسی خریدلے اور پھر اس پر قبضہ کرکے دوبارہ دکاندار کے حوالے کردے کہ اس کو بھیج دے،اس صورت میں پانچ سو ریال کی فوری ادائیگی اور پانچ سو کی تاخیر سے ادائیگی درست ہوگی ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5/ 179):

(باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز) وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز ۔

 قال ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی ؛  لأن ما في الأصل لا يمكن حمله، على أنه لا يشترط التقابض، ولو من أحد الجانبين، لأنه يكون افتراقا عن دين بدين وهو غير صحيح. فيتعين حمله على أنه لا يشترط منهما جميعا بل من أحدهما فقط.

فقه البیوع (2/739):

أما تبادل العملات المختلفة الجنس، مثل الربیة الباکستانیة بالریال السعودی، فقیاس قول الإمام محمد رحمہ اللہ تعالی أن تجوز فیہ النسیئة أیضاً؛ لأن الفلوس لو بیعت بخلاف جنسھا من الأثمان، مثل الدراھم، فیجوز فیھا التفاضل والنسیئة جمیعاً بشرط أن یقبض أحد البدلین فی المجلس، لئلا یؤدی إلی الافتراق عن دین بدین….. فلاتجوز النسیئة فی الموقف الثانی، وتجوز فی الموقف الثالث، وھذا الموقف الثالث ھو الذی اخترتہ فی رسالتی "أحکام الأوراق النقدیة".

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

26/شوال1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب