03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
علاقہ سیرو (شانگلہ کےقریب پہاڑی علاقہ  )میں جمعہ وعیدین کاحکم
80163نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

سوال:بخدمت جناب حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم !

مجھے اپنےعلاقے(سیروجوکہ ضلع شانگلہ خیبرپختونخواہ کاایک پہاڑی علاقہ ہے)میں نمازجمعہ وعیدین سےمتعلق دریافت کرناہے،جس کی آبادی کی تفصیل کچھ یوں ہے:

  1. گاؤں کی تمام آبادی تقریبا ڈھائی سوگھرانوں پرمشتمل ہے،یعنی مختلف کمیٹیاں اوربرادری کوملاکر)
  2. ضروریات زندگی کےلیےسات دکانیں موجود ہیں،جن میں دومیڈیکل اسٹور بھی ہیں،اورروزمرہ کی غذائی ضروریات ان دوکانوں سےپوری ہوجاتی ہیں۔
  3. مسجدمیں پابندی کےساتھ پانچ اعمال ہوتےہیں۔
  4. نمازپنچگانہ میں نمازیوں کی تعداد 40 سے50 تک ہوتی ہے۔
  5. ہمارے گاوں کی حدود تک روزانہ کی بنیاد پر پولیس گشت بھی کرتی ہے۔
  6. مقامی باشندوں کی تعداد تقریبا 1500 تک ہے۔
  7. مسجدمین روڈ پرواقع ہے۔

درج بالاتفصیل کی روشنی میں آپ بتائیں کہ اس جگہ پرنماز جمعہ وعیدین درست ہوگی   یانہیں ؟

ضروری نوٹ :جہاں تک نمازجمعہ کےلیےمصرشرط ہونےکی بات ہےتواس کےبارےمیں عرض یہ ہےکہ ہمارےہاں جومرکزی گاؤں ہےجس کانام کروڑوہ ہے،اس علاقےکامرکزی علاقہ ہےجہاں گاؤں کاسب سےبڑابازاربھی ہے،جوکہ لگ بھگ تین سودکانوں پرمشتمل ہے،جس میں ہرطرح کی دوکانیں موجود ہیں اورآس پاس کےوہ علاقےجہاں عرصہ دراز سےجمعہ وعیدین کی نمازلوگ پڑھتےہوئےآرہےہیں،وہ بھی اس کو اپنابڑابازارسمجھتےہیں،مذکورہ گاؤں والےبھی اسی کواپنا مرکزی بازار سمجھتےہیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعاجمعہ کے جائزہونےکے لئےضروری ہے کہ مصرجامع(بڑاشہر)ہو(عام طورپرعرف عام میں اسے شہرکہاجاتاہو)یاقریہ کبیرہ(بڑی بستی)جس میں دورویہ بازارہواورضرورت کی ساری چیزیں مہیاہوں، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی سے(مصرجامع کے بارے میں) منقول ہے کہ ایسی جگہ"جس میں گلیاں اوربازارہوں،اوراس میں والی(قاضی)بھی ہوجو مظلوم کوظالم سےانصاف دلانے پرقادرہواورلوگ پریشانی میں اس کی طرف رجوع بھی کرسکیں"قریہ کبیرہ ہوگی۔

صورت مسئولہ میں علاقےکی مذکورہ صورت حال سےمعلوم ہوتاہےکہ یہ علاقہ   شہر یاقریہ کبیرہ میں بظاہر داخل نہیں،اس لیےاس علاقےمیں جمعہ وعیدین  کی نماز پڑھنا شرعاجائزنہیں ہوگا۔

اس گاؤں سےمتصل دوسراعلاقہ(کروڑہ)جہاں جمعہ کی شرائط پائی جاتی ہیں،وہاں جمعہ وعیدین کی نما زپڑھ لی جائے۔

نوٹ:مذکورہ جواب سوال میں ذکرکردہ وضاحت کےمطابق دیاگیاہے،جگہ کی مکمل صورت حال اورمحل وقوع کےاعتبارسےبہتریہ ہےکہ علاقےکےقریبی معتبردارالافتاء جاکروہاں کےمفتیان کرام کووہ جگہ دکھاکرفتوی حاصل کرکےاس پرعمل کیاجائے۔

حوالہ جات

"رد المحتار" 6 / 41:

( ويشترط لصحتها ) سبعة أشياء : الأول : ( المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها ) وعليه فتوى أكثر الفقهاء. مجتبى لظهور التواني في الأحكام وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير وقاض يقدر على إقامة الحدود كما حررناه فيما علقناه على الملتقى ۔

"رد المحتار" 6 / 44:

وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق۔۔۔

"منھاج السنن شرح جامع السنن للامام الترمذی" 47/3 :

قلت والمراد من الاسواق الحوانیت التی تکفی لحوائج ھذالمقام ورساتیقھا،لاالاسواق المعروفۃ فی ھذالزمان فانھالم تکن فی الحرمین الشریفین ایضا فی تلک الأعصار۔(بحوالہ " فتاوی فریدیہ 3"/ 165)

"الهداية" 1 / 829 :

والمصر الجامع : كل موضع له أمير وقاض ينفد الأحكام ويقيم الحدود۔۔۔

"حاشية رد المحتار" 2 / 148:

في التحفة عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث، وهذا هو الاصح۔۔۔۔

"الکوکب الدری "1/413

:ولیس ھذاکلہ تحدیدالہ بل اشارۃ الی تعیینہ وتقریب لہ الی الاذھان وحاصلہ ادارۃ الامر علی رأی اھل کل زمان فی عدھم المعمورۃ مصرافماھومصرفی عرفہم جازت الجمعۃ فیہ ومالیس بمصرلم یجز فیہ الاان یکون فناء المصر۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

29/شوال      1444ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب