03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٍٍ محلَّلہ عورت کی بیٹی کا محِّلل مرد کے بیٹے سے نکاح کا حکم
80158نکاح کا بیانمحرمات کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ

       دوبھائی ہیں،ان میں سے ایک کی بیٹی ہےاپنی بیوی سے  اوردوسرے کا بیٹاہےاپنی بیوی سے، یہ دونوں بچے آپس میں نکاح کرنا چاہیےہیں مگرمسئلہ یہ ہے کہ ان بھائیوں میں سے ایک نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں اورپھر حلالہ اپنے اسی بھائی سے کروایا تھا،توپوچھنا یہ ہے کہ بحالاتِ موجودہ مذکورہ نکاح درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

        سوال میں ذکرکردہ نکاح درست ہے،اس لیےکہ محلَّلہ کی بیٹی(جو محِّلل سے نہیں ہے) اورمحِّلل کا بیٹا(جومحلَّلہ سے نہیں ہے)آپس میں محرم نہیں ہیں،اس لیے کہ نہ تو ان کا والد ایک ہے اورنہ ہی والدہ اورنہ ہی تحریم کےدیگراسباب میں سے کوئی سبب پایاجاتاہے،لہذا مذکورہ نکاح  بلاشبہ درست ہے۔ 

حوالہ جات

 قال اللہ تعالی:وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَآءَ ذَٰلِكُم (النساء:24)

في الدر المختار - (3 / 31)

وَأَمَّا بِنْتُ زَوْجَةِ أَبِيهِ أَوْ ابْنُهُ فَحَلَال

وفي حاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (3 / 31)

قَالَ الْخَيْرُ الرَّمْلِيُّ: وَلَا تَحْرُمُ بِنْتُ زَوْجِ الْأُمِّ وَلَا أُمُّهُ وَلَا أُمُّ زَوْجَةِ الْأَبِ وَلَا بِنْتُهَا وَلَا أُمُّ زَوْجَةِ الِابْنِ وَلَا بِنْتُهَا وَلَازَوْجَةُ الرَّبِيبِ وَلَا زَوْجَةُ الرَّابِّ. اهـ.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

28/10/ 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب