03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چاربھائی پانچ بہنوں میں میراث کی تقسیم (ایک بھائی والدکی زندگی میں فوت ہوچکاہے)
80183میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سوال:السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !

کیافرماتےہین مفتیان کرام اس مسئلےکےبارےمیں کہ ہم کل پانچ بھائی اورپانچ بہنیں ہیں،ہماری زمین ساڑھے چار بھگےہے،ہمارابڑابھائی والدین سےپہلےفوت ہوچکاہے،ہمارےبھتیجوں نےکہا،ہمارامکان تنگ ہے،ہم مکان بناتےہیں،ہم ہمدردی کی بناء پر سب فریقوں کی رضامندی سےان کوایک کنال زمین دی ہے،جس میں انہوں نےمکان بنایاہے،اب ہم نےوراثت تقسیم کرنی ہے،سب بھائی اوربہنوں نےکہاہماراجوحصہ بنتاہےوہ ہمیں دیں،کچھ فریقوں نےکہا وراثت میں اس بھائی کاحصہ نہیں بنتا،اب بقایازمین چاربھائیوں اورپانچ بہنوں میں تقسیم کیسےہوگی ؟

تنقیح:والدہ والد سےپہلےفوت ہوچکی ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والدکی وفات کےبعد چونکہ تمام ورثہ کی رضامندی سےبھتیجوں کوزمین ملکیتادی گئی ہےتووہ زمین بھتیجوں  کی  ذاتی ملکیت ہوگی ،تمام ورثہ راضی تھےا س لیےیہ وراثت میں شامل نہیں ہوگی،اس کوشرعایہ سمجھاجائےگاکہ تمام ورثہ کی طرف سےبھتیجوں کےلیےہدیہ اورتبرع  ہے۔

ایک کنال زمین کےعلاوہ دیگر زمین فی الوقت موجود ورثہ میں وراثت کےحصوں کےمطابق تقسیم ہوگی ۔

جتنی میراث ہواس کو 13حصوں میں تقسیم کیاجائےگا،ہربھائی کو دودوحصےملیں گےاو رہربہن کو ایک ایک حصہ ملےگا ۔

اگرفیصدی اعتبارسےتقسیم کیاجائےتوکل میراث میں سے ہربھائی کو15.3846فیصدحصہ ملےگااور ہربہن کو 7.6923فیصدحصہ ملےگا  ۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی فی سورۃ النساء:یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکرمثل حظ الانثیین۔

" شرح المجلۃ" 1/473 :یملک الموھوب لہ الموھوب بالقبض ،فالقبض شرط لثبوت الملک ۔

"شرح المجلۃ"1 /462:

وتتم(الھبۃ)بالقبض الکامل لأنہامن التبرعات والتبرع لایتم الابالقبض الکامل ۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

29/شوال      1444ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب