| 80184 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سوال:آپ ہمیں قرآن وحدیث کی روشنی میں فتوی دیں کہ وراثت میں اس بھائی کاحصہ بنتاہےیانہیں؟کچھ فریق کہتےہیں کہ حصہ دیتےہیں اورکچھ کہتےہیں ہم نہیں دیتے،سب رضامند نہیں اس دینےپر،آپ حضرات اس مسئلےکےبارےمیں ہماری راہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ ایک بھائی والد صاحب کی زندگی میں ہی فوت ہوچکےتھے،اس لیےوالدکی میراث میں ان کاکوئی حصہ نہیں ہوگا،کیونکہ شرعامیراث کی تقسیم وفات کےوقت موجود ورثہ کےدرمیان کی جاتی ہے۔
حوالہ جات
"رد المحتار"758/6:
وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقةً أو حكمًا كمفقود أو تقديرًا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيًّا حقيقةً أو تقديرًا كالحمل، والعلم بجهل إرثه۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
29/شوال 1444ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


