| 80181 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے بڑے بھائی جی کا انتقال ہوچکا ہے ،آپ نے ورثہ میں زوجہ اور ایک بیٹی ،اور ترکہ میں مکان چھوڑا ہے،والدین مرحومین کا ترکہ2000 میں تقسیم ہوا،جس میں بھائی نے اپنا حصہ وصول کیا ،آپ نے والدہ کا زیور جو تقریبا 8تولہ اور دکان کا کرایہ جو یہ وصول کرتے تھے،اس ترکہ میں تقسیم نہیں کیایہ کہہ کر کہ مجھے یہ میرے خدمت کے سلسلے میں میرا حق ہے ،جبکہ بھائی مرحوم نے تمام دیگر ورثہ سے اس کی اجازت نہیں لی ،خود ہی فیصلہ کرلیا ،اب جبکہ آپ کے انتقال ہوگیاہے ،اس کا کیسے ازالہ کیا جائے گا؟ تاکہ میرا بھائی دنیا وآخرت میں سرخرو ہوسکے،راہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
دیگر ورثہ کی اجازت کے بغیر میراث میں سے چیزیں لینا درست نہیں ہے،والدین کی خدمت ایک احسان اور تبرع ہے،اس کے بدلے ترکے میں سے کچھ لینے کی اجازت نہیں تھی،اب اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ بقیہ ورثہ اس کو معاف کردیں،یا اس کے ترکے میں سے اپنے حصے کی بقدر وصول کریں۔
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
30/شوال1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


