| 80186 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک ڈاکٹر ہوں، اپنے شہر کے ایف سی ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں میری سرکاری ڈیوٹی لگی ہے اور اسی شہر میں میرا ذاتی کلینک بھی ہے جو ہیڈ کوارٹر سے زیادہ دور نہیں ہے۔ ہیڈ کوارٹر کے مقامی افسر نے مجھے اجازت دی ہے کہ آپ اپنے کلینک پر ڈیوٹی کرتے رہو ہمارے ایف سی والے جو بیمار ہوتے رہیں گے ان کو ہم آپ کے پاس بھیجتے رہیں گے آپ ان سے فیس نہ لواور مقامی افسر کا کہنا ہے کہ میں آپ کو اس بات کی اجازت دینے کا قانونا مجاز بھی ہوں اور اس میں ان کو فائدہ یہ ہے کہ سرکاری وقت تو مخصوص وقت ہوتا اس میں میں ہسپتال پر ہوتا اور صرف اسی وقت مریض دیکھتا جب کہ کلینک میں وہ ہر وقت مریض بھیج سکیں گے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر واقعی وہ افسر قانونا مجاز ہو تو اس کی اجازت سے میں مذکورہ عمل کرسکتا ہوں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ملازم کے لیے ضروری ہے کہ جو وقت اس کی ڈیوٹی کا مقرر کیا جائے اس وقت میں وہ ڈیوٹی پر موجود ہو، چاہے کوئی کام ہو یا نہ ہو۔ اور ڈیوٹی کے وقت میں بلا اجازت ذاتی کام کرنا جائز نہیں ہے۔ لہذا سرکاری ملازم ہونےکی حیثیت سے آپ کے لیے ضروری ہے کہ مقررہ وقت ایف سی ہیڈکواٹر ہسپتال میں دیں، البتہ اگر مقامی افسر قانونا اجازت دینے کے اختیارات رکھتا ہے تو آپ کے لیے اپنے کلینک پر کام کرنا درست ہے۔
لیکن اگر قانونا مقامی افسر کو اجازت دینے کا اختیار نہیں تو سرکاری ڈیوٹی کے مقررہ وقت میں کہیں اور ڈیوٹی کرنا جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار (6/ 69)
( والثاني ) وهو الأجير ( الخاص ) ويسمى أجير واحد ( وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو ) شهرا ( لرعي الغنم ) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا وليس للخاص أن يعمل لغيره ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل ( وإن هلك في المدة نصف الغنم أو أكثر ) من نصفه ( فله الأجرة كاملة ) ما دام يرعى منها شيئا لما مر أن المعقود عليه تسليم نفسه جوهرة
درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 383)
الأجير على قسمين : القسم الأول هو الأجير الخاص الذي استؤجر على أن يعمل للمستأجر فقط كالخادم الموظف ... ويؤخذ من هذا التعريف أن الأجير الخاص لا يمكنه أن يعمل عملا لغير المستأجر قبل انقضاء المدة التي استؤجر فيها ; لأن الانتفاع بعمله في تلك المدة للمستأجر ولا يجوز تمليك المنافع العائدة إليه لغيره . فلو عمل الأجير الخاص بإنسان عملا لغيره فقصر في عمل مستأجره الأول لاشتغاله بعمل المستأجر الثاني في المدة المستأجر فيها للأول خاصة فللمستأجر الأول أن ينقص من أجر الأجير بقدر تقصيره في عمله.
عمر فاروق
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
۲/ذو القعدہ/۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


