| 80231 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
میری بیٹی شانزہ طیب عمر 25 سال باکرہ، عالمہ تھی، 30 اگست کو رشتے والی خاتون کے ذریعے رشتہ آیا عبدالمعز خان کا جن کی عمر تقریبا تیس سال تھی۔ وہ خلع یافتہ تھا اوراس کی بیٹی اس وقت 8 ماھ کی تھی۔ میری بیٹی نے نیک نیتی سے بچی کو ایک مخلص ماں کا سہارا دینے کے لیے قبول کیا ۔ انھوں نے شادی کی جلدی کی کہ بچی کو جلد از جلد ماں مل جائے چنانچہ 21 اکتوبر 2022 کو نکاح اور رخصتی ہوگئ ۔ شادی کے بعد ان لوگوں کا رویہ بدلنے لگا۔
ایک مہینے بعد میری بیٹی حاملہ ہوگئ۔ ان کے ظلم سے پریشان ہو کر اور حاملہ ہونے کی وجہ سے اسے بہت گھبراہٹ ہورہی تھی ۔ تو میں بحیثیت والد ، اپنی بیٹی کو 8 دسمبر کو عبدالمعز کی اور انکی والدہ کی اجازت سے ایک دن کے لیے گھر لے آیا ۔ اور عبدالمعز (شوہر) اپنے قول کے مطابق اپنی زوجہ کو لینے نہیں آیا اور اس سے بات چیت بند کر دی ۔ رویہ بدل گیا ، مزید غیر اخلاقی باتیں شروع ہو گئیں۔ مجھ سے اور میری اہلیہ سے بدتمیزی کرنے لگا۔ عبدالمعز نے بچے کے نسب سے انکار کر دیا اور ڈی این اے کا مطالبہ کیا اور اپنے عزیز و احباب میں میری بیٹی کی کردار کشی کی اور الزامات لگائے کہ یہ بچہ میرا نہیں ہے، اس نے کسی اورمقصد کے لیے شادی کی ہے اور میری بیٹی کو ذہنی مریضہ ہونے کا الزام دیا۔ تین جنوری کو میری بیٹی کا حمل ضائع ہوگیا۔
تمام صورتحال دیکھتے ہوئے ہم نے خلع کا مطالبہ کیا، دو مہینے تک بہت پریشان کیا اور اس کے بعد اس بات پر راضی ہوا کہ خلع نامہ میرے مطلب کا ہو یعنی میرے مطابق ہوگا اور خلع نامہ لکھ کر بھیجا جو آگے صفحے پر موجود ہے ۔
سوال نمبر 1 یہ ہے کہ اس خلع نامہ کے تحت کیا ایک طلاق ہو گئ ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جس طرح طلاق زبانی طور پر ہو جاتی ہے اسی طرح لکھنے سے یا کسی اور شخص سے لکھوانے سے بھی ہو جاتی ہے۔
مذکورہ صورت میں جب شوہر نے خلع نامہ پر دستخط نہیں کیے لیکن وکیل سے خلع نامہ تیار کروا کر لڑکی والوں کو بھیجا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ وکیل کے تیار کیے ہوئے اس مسودہ پر راضی ہے ۔لہذا خلع نامہ میں موجود اس جملہ "فریق دوم تحریری اور زبانی دونوں طور پر گواہان کی موجودگی میں طلاق دے کر اپنی حق زوجیت سے الگ کر رہا ہے" کی وجہ سے عورت پر ایک طلاق بائن واقع ہو چکی ہےاور بیوی مہر کی حقدار نہیں رہی ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار (3/ 235)
( ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل ) ولو تقديرا ،بدائع۔۔۔۔ وأما طلاق الفضولي والإجازة قولا وفعلا فكالنكاح ،بزازية ( و ) بناء على اعتبار الزوج المذكور ( لا يقع طلاق المولى على امرأة عبده ) لحديث ابن ماجه الطلاق لمن أخذ بالساق إلا إذا قال زوجتها منك على أن أمرها بيدي أطلقها كما شئت فقال العبد قبلت وكذا إذا قال العبد إذا تزوجتها فأمرها بيدك أبدا كان كذلك ،خانية۔
الدر المختار (3/ 443)
الخلع ( يكون بلفظ البيع والشراء والطلاق والمبارأة ) كبعت نفسك أو طلاقك أو طلقتك على كذا أو بارأتك أي فارقتك وقبلت المرأة( و ) حكمه أن ( الواقع به ) ولو بلا مال ( وبالطلاق ) الصريح ( على مال طلاق بائن )
حاشية ابن عابدين (3/ 443)
قوله ( أو طلاقك ) في البحر ولو قال بعت منك طلاقك بمهرك فقالت طلقت نفسي بانت منه بمهرها بمنزلة قولها اشتريت وقيل يقع رجعيا والأول أصح
ولو قال بعت منك تطليقك فقال اشتريت يقع رجعيا مجانا لأنه صريح ا هـ
وقيدالثانیۃ في الخانية بما إذا لم يذكر البدل ثم قال ولو قال بعت نفسك منك فقالت اشتريت يقع طلاق بائن لأن بيع الطلاق تمليك الطلاق فإذ لم يذكر البدل يصير كأنه قال طلقتك فيكون رجعيا
حاشية ابن عابدين (3/ 444)
قوله ( ولو بالطلاق الخ ) في بعض النسخ وبالطلاق بإسقاط لو وهو الأولى لما علمت من أن الطلاق على مال خارج عن الخلع المسقط للحقوق لكن لما كان المراد بيان وقوع البائن به صح إطلاق الخلع عليه وإنما ذكر الصريح نصا على المتوهم إذ الكناية كذلك كما أفاده ط
وأراد بالمال ما يشمل الإبراء منه حتى لو قالت أبرأتك عما لي عليك على طلاقي ففعل برىء وبانت بخلاف طلقني على أن أؤخر مالي عليك فإن التأخير ليس بمال وصح التأخير لو له غاية معلومة وإلا فلا والطلاق رجعي مطلقا
بحر عن البزازية
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 246)
"كتب الطلاق، وإن مستبينًا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل: مطلقًا، ولو على نحو الماء فلا مطلقًا. (قوله: كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرًا ومعنونًا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لايكون مصدرًا ومعنونًا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لايمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لايقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينةً لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومةً يقع الطلاق نوى أو لم ينو، ثم المرسومة لاتخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق، كذا في الخلاصة ط (قوله: إن مستبينًا) أي ولم يكن مرسومًا أي معتادًا وإنما لم يقيده به لفهمه من مقابلة وهو قوله: ولو كتب على وجه الرسالة إلخ فإنه المراد بالمرسوم (قوله: مطلقاً) المراد به في الموضعين نوى أو لم ينو وقوله ولو على نحو الماء مقابل قوله: إن مستبيناً (قوله: طلقت بوصول الكتاب) أي إليها ولايحتاج إلى النية في المستبين المرسوم، ولايصدق في القضاء أنه عنى تجربة الخط بحر ".
ولی الحسنین
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
3 ذوالقعدہ 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ولی الحسنین بن سمیع الحسنین | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


