| 80232 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
ہم نے پڑھا ہے کہ اگر شوہر مجنوں یو یا نامرد ہو یا نان نفقہ نی دیتا ہو یا زندگی سے غائب ہو گیا ہو تو کورٹ سے خلع ہو جاتی ہے اگرچہ شوہر کورٹ آ کر دستخط نہ بھی کرے۔ سوال نمبر 2 یہ ہے کہ اگر مندرجہ بالا صورتحال پر ہم کورٹ جائیں اور عبدالمعز کورٹ آ کر دستخط نہ کرے اور اور جج صاحب خلع دے دیں تو کیا خلع ہو جائے گی ؟
وہ آدمی کسی صورت طلاق دینے پر راضی نہیں ہے۔ خلع کے پیپر پر دستخط کرنے کے لئے بھی رضامندی کا اظہار کر کے وعدہ خلافی کر رہا ہے، جھوٹ بھی بولتا ہے اس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہمیں اپنی بیٹی کے لیے جان کا خطرہ بھی ہے کیونکہ وہ ایک بار قتل اور جلانے کی دھمکی دے چکا ہے اور اس گناہ میں اسکے والدین بھی بھرپور ساتھ دیتے رہے ہیں اور ہمارے پاس کورٹ سے خلع لینے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں شوہر کے خلع نامہ میں یہ جملہ "فریق دوم تحریری اور زبانی دونوں طور پر گواہان کی موجودگی میں طلاق دے کر اپنی حق زوجیت سے الگ کر رہا ہے" لکھنے کی وجہ سے چونکہ طلاق واقع ہو چکی ہے، لہذا عدالتی خلع لینے کی شرعا ضرورت نہیں ہے۔مذکورہ خلع نامہ لکھنے کے وقت سے تین حیض عدت پوری کرکےعورت دوسری جگہ اپنا نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
حوالہ جات
أحكام الأحوال الشخصية في الشريعة الإسلامية (ص: 165)
وأما القاضي فلا يطلق الزوجة بناء على طلبها إلا في خمس حالات: التطليق لعدم الإنفاق، والتطليق للعيب و التطليق للضرر، والتطليق لغيبة الزوج بلا عذر، والتطليق لحبسه.
"الفتاوى الهندية" (4/ 39)
"(وأما حكمها) فاستحقاق الجواب على الخصم بنعم أو لا فإن أقر ثبت المدعى به وإن أنكر يقول القاضي للمدعي: ألك بينة فإن قال: لا، يقول لك يمينه ولو سكت المدعى عليه ولم يجبه بلا أو نعم فالقاضي يجعله منكرا حتى لو أقام المدعي البينة تسمع كذا في محيط السرخسي"۔
الفتاوى الهندية (3/ 363)
ولو قضى برد نكاح المرأة بعيب عمى أو جنون أو نحو ذلك ينفذ قضاؤه لأن عمر رضي الله تعالى عنه كان يقول برد المرأة الزوج بعيوب خمسة ولو قضى برد المرأة الزوج بواحد من هذه العيوب نفذ لأن هذا مختلف فيه بين أصحابنا رحمهم الله تعالى محمد رحمه الله تعالى يقول بالرد۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وحكم القاضي في الخلع أنه فسخ كالحكم في سائر المجتهدات فإن خواهر زاده رحمه الله تعالى ذكر فيه اختلاف الصحابة رضوان الله تعالى عليهم أجمعين فإذا قضى بكونه فسخا نفذ قضاؤه
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 439)
الخلع (هو) لغة الإزالة، وشرعا كما في البحر (إزالة ملك النكاح المتوقفة على قبولها بلفظ الخلع أو ما في معناه).وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.
بداية المجتهد ونهاية المقتصد (3/ 90) دار الحديث – القاهرة:
المسألة الثالثة: وأما ما يرجع إلى الحال التي يجوز فيها الخلع من التي لا يجوز: فإن الجمهور على أن الخلع جائز مع التراضي إذا لم يكن سبب رضاها بما تعطيه إضراره بها.
تفسير ابن المنذر (2/ 692)
حدثنا علان، قال: حدثنا أبو صالح، قال: حدثنا معاوية، عن علي، عن ابن عباس: " {واللاتي تخافون نشوزهن فعظوهن واهجروهن في المضاجع} ، قال: فإن رجعت، وإلا ضربها ضربا غير مبرح، ولا يكسر لها عظما، ولا يجرح بها جرحا "
تفسير ابن كثير (2/ 295)
قال ابن عباس وغير واحد: ضربا غير مبرح. قال الحسن البصري: يعني غير مؤثر. قال الفقهاء: هو ألا يكسر فيها عضوا ولا يؤثر فيها شيئا.
وقال علي بن أبي طلحة عن ابن عباس: يهجرها في المضجع، فإن أقبلت وإلا فقد أذن الله لك أن تضرب ضربا غير مبرح، ولا تكسر لها عظما۔
ولی الحسنین
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
3 ذوالقعدہ 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ولی الحسنین بن سمیع الحسنین | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


