| 80211 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرا نام دل نواز ہے،آج سے دو سال پہلے میری شادی ہوئی ،شادی کے بعددو سال کے دوران ہماری آپس میں میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا، اس جھگڑے کے دوران میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے کہ" طلاق کی بیٹی "یہ لفظ میں نےایک بار منہ سے کہا اوردوسری بار موبائل پر یہ الفاظ دوبارہ لکھے کہ "طلاق کی بیٹی" میرا ارادہ طلاق دینے کانہیں تھا اس بات پر میں نے مفتی طوروصاحب سے فتوی لیا جس کے مطابق میری طلاق واقع نہیں ہوئی ،اس کے بعد ہماری صلح ہوئی،اب بات یہ ہے کہ میری ایک بیٹی ہے جو 10 ماہ کی ہے ہم میاں بیوی کے درمیان کچھ ناچاقی ہوئی اس ناچاقی کے دوران میرے سسرال والوں نے مجھے بہت زیادہ ڈپریشن میں ڈالا،پریشان کیا اس حدتک پریشانی بڑی کہ میری بات کورٹ جاپہنچی، سسرال والوں نے کورٹ میں مجھ پر بہت ذہنی دباؤ ڈالاکہ جو میری ایک بیٹی دس ماہ کی ہے وہ اوراسی طرح اگلی اولادجو اس ماں ہوں گی لکھ کردو اوریہ لکھو کہ میر ان پر کوئی حق نہیں ہوگا ،ورنہ طلاق لکھ کردو۔انہوں نے اسٹام پیپر پر یہ لکھوایا کہ میں نے پہلے دو طلاقیں دی ہے اورتیسری دینے جارہاہوں، جبکہ پہلی دو طلاقیں واقع نہیں ہوئی تھیں جیسے میں لکھااورفتوے کا حوالہ بھی دیا۔
ذہنی دباؤ کی وجہ سے میں نے منسلکہ پیپرپر سائن کردیے اورانگوٹھا لگالیاہے جبکہ میر ارادہ طلاق دینے کا نہیں تھا میرے پاس گواہ بھی موجودہے لڑکی کا ما موں ،دادا ابو ا اورمیرے ماموں موجود تھے ۔اب پوچھنایہ ہےکہ
کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی ہے یانہیں ؟منہ سے میں نے اپنی بیوی کوطلاق کے الفاظ نہیں بولے۔
نوٹ: سائل نے فون پر زبانی بتایا کہ دباؤ یہ ڈالاتھاکہ یہ بیٹی اوراگلی ہونے والی اولاد لکھ دو ورنہ تو طلاق لکھ کر دو،اس کے علاوہ کوئی اور دھمکی نہیں دی تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مسئولہ صورت میں یہ بات تو درست ہے کہ "طلاق کی بیٹی" کہنے سے کوئی نہیں ہوتی جیسے کہ منسلکہ فتوی میں درج ہے تاہم منسلکہ تحریرمیں موجود تینوں طلاق واقع ہوگئیں ہیں ،اس لیے کہ صرف یہ دباؤ ڈالنا کہ "یہ بیٹی اوراگلی ہونے والی اولاد لکھ کردو ورنہ تو طلاق لکھ کردو"کوئی ایسی دھمکی نہیں کہ شرعاً یہ کسی شرعی اکراہ کے زمرےمیں آتاہو ،کیونکہ بیٹی اوردیگراولاد اجنبی کے نام کرانے سے شرعاً اس سےرشتہ ولدیت ختم نہیں ہوتا نیز اس سے والدکی جان اورمال کوکوئی خطرہ نہیں اورنہ اولادکی جان اورمال کو کوئی معتبرخطرہ ہے،لہذ اشرعی اکراہ نہ ہونے کی وجہ سے منسلکہ طلاق نامہ میں لکھی ہوئی تینوں طلاق واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،لہذ بحالاتِ موجودہ نہ رجوع ہوسکتاہے اورنہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر نکاح ۔
واضح رہے کہ شرعی اکراہ تحقق کےلیے والدکومارنے پیٹنےیاجان سےمارنے یا قیدمیں ڈالنےیا بقول حنفیہ کےاولاد اوردیگرذی محرم رشتہ دارکے بارے میں اسم قسم دھمکی دینا ضروری ہےکہ جس سے کم از کم رضا فوت ہوجائے جبکہ مذکورہ دھمکی ایسی نہیں ہے،لہذا یہ شرعی اکراہ نہیں ہے،لہذا تحریری طلاق واقع ہوگئی ہے۔
حوالہ جات
"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع "(7/ 175):
"وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر، ومنهم من قدره بعدد ضربات الحد، وأنه غير سديد؛ لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد، وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا".
"الدر المختار " (6/ 129):
"(وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال".
وفی المبسوط لشمس الدين السرخسي - (ج 18 / ص 95)
ولا نص في التقديرهنا وأحوال الناس تختلف باختلاف تحمل أبدانهم للضرب وخلافه فلاطريق سوى رجوع المكره إلى غالب رأيه فان وقع في غالب رأيه أنه لاتتلف به نفسه ولا عضو من أعضائه لا يصير ملجأ وان خاف على نفسه التلف منه يصير ملجأ وان كان التهديد بعشرة أسواط.
المبسوط للسرخسي ، دارالمعرفة - (24 / 39)
ثم في الإكراه يعتبر معنى في المكره، ومعنى في المكره، ومعنى فيما أكره عليه، ومعنى فيما أكره به، فالمعتبر في المكره تمكنه من إيقاع ما هدده به، ...وفي المكره المعتبر أن يصير خائفا على نفسه من جهة المكره في إيقاع ما هدده به عاجلا؛ لأنه لا يصير ملجأ محمولا طبعا إلا بذلك، وفيما أكره به بأن يكون متلفا، أو مزمنا، أو متلفا عضوا، أو موجبا عما ينعدم الرضا باعتباره،
"الدر المختار " (6/ 141):
وإن هددها بطلاق أو تزوج عليها أو تسر فليس بإكراه خانية وفي مجمع الفتاوى: منع امرأته المريضة عن المسير إلى أبويها إلا أن تهبه مهرها فوهبته بعض المهر فالهبة باطلة، لأنها كالمكره.
المبسوط - (ج 27 / ص 458)
والإكراه بالحبس يمنع نفوذ البيع ، والإقرار ، والهبة والعقود التي تحتمل الفسخ ، فكذلك الإكراه بقتل ابنه وكذلك التهديد بقتل ذي رحم محرم ؛ لأن القرابة المتأيدة بالمحرمية بمنزلة الولادة في حكم الإحياء بدليل أنها توجب العتق عند الدخول في ملكه .
قال اللہ تعالی فی سورة الاحزاب:
ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم وليس عليكم جناح فيما أخطأتم به ولكن ما تعمدت قلوبكم وكان الله غفورا رحيما (5)
وفی تفسیر الوجيز للواحدي (ص: 858)
{ادعوهم لآبائهم} أي: انسبوهم إلى الذين ولدوهم {هو أقسط عند الله} أعدل عند الله {فإن لم تعلموا آباءهم} من هم {فإخوانكم في الدين} أي: فهم إخوانكم في الدين {ومواليكم} وبنو عمكم وقيل: أولياؤكم في الدين {وليس عليكم جناح فيما أخطأتم به} وهو أن يقول لغير ابنه: يا بني من غير تعمد أن يجريه مجرى الولد في الميراث وهو قوله: {ولكن ما تعمدت قلوبكم} يعني: ولكن الجناح في الذي تعمدت قلوبكم.
وفی القران المجيد[البقرة: 230]
{ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ }
وفی احکام القرآن للشيخ ظفر احمد العثماني(رح):(۱/۵۰4)
﴿قوله تعالي: فان طلقها فلا تحل له حتي تنکح زوجا غيره﴾ اي انه اذا طلق الرجل امرأته طلقة ثالثة بعد ما ارسل عليها الطلاق مرتين فانها تحرم عليه حتي تنکح زوجا غيره اي حتي يطأها زوج اخر في نکاح صحيح.
فی سنن ابن ماجة (ج 2 / ص 152)باب من طلق ثلاثا في مجلس واحد 2024
حدثنا محمد بن رمح . أنبأنا الليث بن سعد ، عن إسحاق بن أبى فروة ،عن أبى الزناد ، عن عامر الشعبى قال : قلت لفاطمة بنت قيس :حدثينى عن طلاقك . قالت : طلقني زوجي ثلاثا ، وهو خارج إلى اليمن فأجاز ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم .
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
۷/١١/١۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


