| 80285 | حدود و تعزیرات کا بیان | تعزیر مالی کے احکام |
سوال
میری بہو: نادیہ جمشید نے 07/11/2022ء کو اپنی 25 دن کی بیٹی کو قتل کردیا تھا، اور میرے بیٹے شاہد نذیر نے اللہ کی رضا کے لیے اپنی بیوی کو بچی کا صرف قتل معاف کردیا تھا، اُس نے اس وقت یہ کہا تھا کہ کیس کا خرچہ اور شادی کا خرچہ لڑکی والوں سے لوں گا۔ آپ قرآن وحدیث کی روشنی میں حل بتائیں کہ وہ حقِ مہر کی حقدار ہے جبکہ اُس نے جرم بھی کیا ہے؟
وضاحتیں: شوہر نے بذریعہ فون درجِ ذیل وضاحتیں دی ہیں:
· ماں نے بچی کو پانی کے ڈرم میں ڈال کر مارا تھا۔
· جب پانی میں ڈبویا تھا، اُس وقت چشمِ دید گواہ کوئی بھی نہیں تھا، چنانچہ ماں نے انکار کردیا تھا کہ اُس نے خود پانی میں بچی کو ڈبویا ہے۔
· شوہر کو اپنی بیوی پر شک تھا۔ اور شک کی وجہ یہ تھی کہ ماں جب حمل سے تھی تو الٹراساؤنڈ کی ہر رپورٹ میں لڑکا بتایا جا رہا تھا، لیکن پیدائش لڑکی کی ہوگئی۔
· شوہر کے والد نے پولیس بُلالی تھی، اور مقتولہ بچی کی ماں کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔
· پولیس کی تحویل میں ماں نے اس بات کا اقرار کرلیا ہے کہ اُس نے خود اپنی بیٹی کو پانی کے ڈرم میں ڈالا تھا۔
· خاتون جیل میں گرفتار ہوگئی تھی۔ لیکن چونکہ وہ چلّہ میں تھی، اور اہلِ محلہ کی بدنامی کا خوف تھا، اس لیے شوہر نے اُس کو معاف کرکے جیل سے رہا کروا دیا تھا۔
· شوہر کے معاف کرنے کا یہ مقصد ہرگز نہیں تھا کہ اُس کی بیوی پر جوکچھ دیت یا سزا شرعاً ثابت ہونی چاہیے، وہ بھی معاف کی جارہی ہے۔
· شوہر نے اپنے گھر والوں سے زبانی کہا تھا کہ وہ اگرچہ لڑکی کے جُرم کو معاف کرکے جیل سے رہا کروا رہا ہے، لیکن اُس کی شادی کے وقت اور قتل کے بعد کیسز وغیرہ میں جو خرچہ ہوا ہے، اور مہر بھی، یہ سب لڑکی والوں سے لوں گا۔
· مختلف اوقات میں 3 مرتبہ جرگہ بھی بیٹھ چکا ہے، اور اس جرگہ نے لڑکی والوں پر دو لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا ہے، لیکن لڑکی والے جرگہ کا کوئی بھی فیصلہ ماننے سے انکاری ہیں۔
لڑکی اب تک شوہر کے نکاح میں ہے۔ البتہ فیصلہ منطقی انجام کو پہنچنے کے بعد شوہر طلاق دے دے گا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اگر والدین میں سے کوئی اپنے کسی بچہ یا بچی کو قتل کردے تو قاتل پر خوں بہا (دیت) ادا کرنا لازم ہوتا ہے، اور اُس کو قصاصاً قتل نہیں کیا جاتا۔ نیز قاتل صرف اپنے مال سے دیت ادا کر سکتا ہے، اُس کے اہلِ خانہ دیت کی ادائیگی کے شرعاً ذمہ دار نہیں ہیں۔ اور یہ دیت تین سال کی مدت تک ادا کرنے کی گنجائش ہے۔ ہر سال ایک ثلث (3/1) ادا کی جائے گی۔
اس تفصیل کی روشنی میں سوال میں ذکر کردہ واقعہ اگر درست ہے، یعنی بچی کی ماں نے پولیس کے خوف سے قتل کا اقرار نہیں کیا ہے، بلکہ اُس نے حقیقتاً اپنی بیٹی کو قتل کرنے کا جُرم کیا ہے، تو یہ شرعاً قتلِ عمد ہے، اس لیے مقتولہ بچی کی ماں پر دیت ادا کرنا لازم ہے۔ اس سال حکومتِ پاکستان کی طرف سے مقتولہ بچی کی دیت کی طے کردہ قیمت 21 لاکھ 59 ہزار 262 روپے ہے۔
لیکن اگر قاتلہ ماں کے لیے مکمل دیت ادا کرنا ممکن نہ ہو، تو مقتولہ بچی کے والد صاحب پوری دیت لینے کے بجائے بھلے طریقے سے کسی ایسی مقدار پر صلح کرلیں جس کا ادا کرنا خاتون کے لیے ممکن ہو۔ نیز اگر عورت کا مہر اتنا زیادہ ہو جس سے مکمل یا بعض دیت ادا ہو سکتی ہو، تو پھر شوہر کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اپنی بیوی کا مہر ادا نہ کرے، اور دیت کے بدلہ اپنے پاس رکھ لے۔ اور اگر مہر کی مقدار دیت سے زیادہ ہو، تو مہر کی اضافی رقم (دیت کی وصولیابی کے بعد جو رقم مہر کی بچ جائے) شوہر اپنی بیوی کو ادا کرنے کا پابند ہے۔
یہاں یہ بات بھی واضح رہنا چاہیے کہ خوں بہا یا دیت کی ادائیگی کے بعد دونوں فریقین کو آپس کے معاملات بہتر بنا لینے چاہییں۔ کیونکہ دیت ادا ہوجانے کے بعد دونوں فریقین کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اپنے مخالف فریق کو یا اُس کے خاندان والوں کو کسی قسم کا نقصان پہنچائے۔ قرآن کریم نے ایسا کرنے والوں کو درد ناک عذاب کی وعید سُنائی ہے۔
حوالہ جات
في البقرة (178):
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ.
بدائع الصنائع (235/7):
"وأما [الشرائط] الذي يرجع إلى المقتول فثلاثة أنواع، أحدها: أن لا يكون جزء القاتل، حتى لو قتل الأب ولده، لا قصاص عليه ... وكذا الأم إذا قتلت ولدها ... والأصل فيه ما روي عن النبي عليه الصلاة والسلام أنه قال: لا يقاد الوالد بولده ... وتجب الدية للكل."
الدر المختار (641/6):
"(كل دية وجبت بنفس القتل) خرج ما انقلب ما لا يصلح أو بشبهة، كقتل الأب ابنه عمدا، فديته في ماله."
الدر المختار (534/6):
"(و) يقتل ... (الفرع بأصله وإن علا، لا بعكسه) ... أي لا يقتص الأصول وإن علوا مطلقا، ولو إناثا من قبل الأم، في نفس أو أطراف بفروعهم وإن سفلوا، لقوله عليه الصلاة والسلام: لا يقاد الوالدبولده. وهو وصف معلل بالجزئية، فيتعدى لمن علا، لأنهم أسباب في إحيائه، فلا يكون سببا لإفنائهم، وحينئذ فتجب الدية في مال الأب في ثلاث سنين، لأن هذا عمد، والعاقلة لا تعقل العمد."
الفتاوى الهندية (6/4):
"ولا يقتل الرجل بابنه. والجد من قبل الرجال والنساء وإن علا في هذا بمنزلة الأب، وكذا الوالدة والجدة من قبل الأب والأم قربت أو بعدت. كذا في الكافي. ثم على الآباء والأجداد الدية بقتل الابن عمدا في أموالهم في ثلاث سنين ... ولا كفارة عليه في العمد عندنا."
بدائع الصنائع (236/7):
"وما يجب على البالغ والعاقل والعامد يكون في ماله؛ لأن القتل عمد لكن سقط القصاص للشبهة، والعاقلة لا تعقل العمد. وفي الأب والأجنبي الدية في مالهما؛ لأن القتل عمد."
بدائع الصنائع (254/7):
"وإن كان [المقتول] أنثى، فدية المرأة على النصف من دية الرجل، لإجماع الصحابة - رضي الله عنهم -؛ فإنه روي عن سيدنا عمر وسيدنا علي وابن مسعود وزيد بن ثابت - رضوان الله تعالى عليهم - أنهم قالوا في دية المرأة: أنها على النصف من دية الرجل، ولم ينقل أنه أنكر عليهم أحد، فيكون إجماعا، ولأن المرأة في ميراثها وشهادتها على النصف من الرجل فكذلك في ديتها."
الفتاوى الهندية (21/6):
"لو عفا الولي أو الوصي عن دم الصغير، لم يجز. كذا في محيط السرخسي."
الفتاوى الهندية (23/6):
"ثم ينظر إلى مهر مثلها وإلى الدية، فإن كان مهر مثلها مثل الدية، لا شك أن الكل يسلم لها، سواء تزوجها بعد القطع حال ما يجيء ويذهب أو بعد ما صار صاحب فراش. وإن كان مهر مثلها أقل من الدية، إن تزوجها في حال ما يجيء ويذهب، فالكل يسلم لها، وإن حصل متبرعا بالزيادة على مهر مثلها، وإن تزوجها في حال ما صار صاحب فراش، فإنه ينظر إن كانت الزيادة من مهر مثلها إلى تمام الدية، تخرج من ثلث مال الزوج، فإنه تبرأ العاقلة عن ذلك، وتعتبر الزيادة على مهر مثلها وصية للعاقلة. وإن كانت لا تخرج الزيادة على مهر مثلها إلى تمام الدية من ثلث ماله، فبقدر ما يخرج من الثلث يسقط عن العاقلة، ويعتبر ذلك وصية لهم، ويردون الباقي إلى ورثة الزوج."
محمد مسعود الحسن صدیقی
دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی
09/ذو القعدۃ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مسعود الحسن صدیقی ولد احمد حسن صدیقی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


