03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دو سال علیحدہ رہنے کے بعدعدّت کا حکم
80305طلاق کے احکامعدت کا بیان

سوال

میرا نام "اروما" ہے۔میں پچھلے 2 سال سے اپنی والدہ کے ساتھ رہ رہی ہوں۔آپس میں لڑائی کی وجہ سے میرے میاں نے گھر سے نکال دیا تھا۔پچھلے سال 31 جولائی کو میرے شوہر نے بیچ سڑک پر لوگوں کو جمع کر کے میری کردار کشی کی اور مجھ پر الزامات لگائے جس کی وجہ سے اگست میں  پورے ایک سال بعد میں نے خلع کا کیس دائر کیا اور اب 31 مئی کو مجھے کورٹ کے ذریعہ خلع ملی ہے۔جس وقت جج نے خلع نامہ پر دستخط کرے اس وقت وہ موجود تھے اور خلع پر رضامند تھے۔

سوال یہ ہے کہ کیا میاں سے علیحدگی ہونے کے پونے دو سال بعد خلع ہوئی ہے تو مجھ پر عدّت گزارنا واجب ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عدالت کی طرف سے جاری کردہ خلع کا یک طرفہ فیصلہ شرعاً معتبر نہیں، کیونکہ خلع کے شرعاً درست ہونے کے لیے فریقین کی باہمی رضامندی کا ہونا ضروری ہے،لہٰذا جب تک شوہر اس پر راضی نہ ہو یک طرفہ خلع کالعدم ہوگا اور نکاح برقرار رے گا،اور اگر شوہر یا اس کے وکیل نے اس عدالتی فیصلہ پر دستخط کئے ہوں یا شوہر نےزبانی اس پر رضامندی کا اظہار کیا ہو تو اس صورت میں شرعاً خلع معتبر ہوگااور ایک طلاق بائن واقع ہوگی۔

مذکورہ صورت میں بقول سائلہ شوہر خلع پر راضی تھا اس لئےایک طلاق بائن واقع ہوگئی ہے اور اس کے بعد بیوی پر عدّت گزارنا واجب ہے۔نکاح کے بعد صحبت یا خلوت صحیحہ ہوچکی ہو تو زوجین کے عرصہ دراز علیحدہ علیحدہ رہنے سے عدّت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

اگر عورت کو ماہواری آتی ہے تو خلع کی عدت تین ماہواریاں (حیض) ہیں، اگر ماہواری نہیں آتی تو قمری مہینے کے حساب سے تین ماہ عدت ہےاور اگر حمل ہو تو عدّت وضعِ حمل (بچے کی پیدائش) ہے۔

حوالہ جات

{وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ} [البقرة: 228]

{وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [الطلاق: 4]

سنن الدارقطني 5/ 83

عن عكرمة  عن ابن عباس  أن النبي صلى الله عليه وسلم «جعل الخلع تطليقة بائنة».

الفتاوى العالمكيرية : 1/ 526

إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء سواء كانت الحرة مسلمة أو كتابية كذا في السراج الوهاج.

والعدة لمن لم تحض لصغر أو كبر أو بلغت بالسن ولم تحض ثلاثة أشهر كذا في النقاية.

محمدمصطفیٰ رضا

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

 13/ذو القعدہ/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مصطفیٰ رضا بن رضا خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب