03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈیوٹی ادا کیے بغیر تنخواہ لینے اور ایسے افراد کی عبادت و امامت کا حکم
80294اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلملازمت کے احکام

سوال

میرا تعلق پاکستان کے قبائلی علاقہ جات سے ہے جن کا خیبر پختونخوا کے ساتھ باقاعدہ انضمام ہوچکا ہے اور عرفِ عام میں اب ان کو ایکس فاٹا (Ex-Fata) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ہمارے علاقے میں لوگ سرکاری نوکری ملنے کے بعد ڈیوٹی نہیں کرتے، بلکہ متعلقہ محکمے کے افسر کو اپنی تنخواہ کا کچھ حصہ بطورِ رشوت دے کر اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر رہتے ہیں۔ خاص کر اساتذہ کرام میں سے چند ہی صرف اپنی ڈیوٹی کرتے ہیں۔ زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ ان اساتذہ میں اسلامیات پڑھانے والے علما بھی ہیں جو مدارسِ عربیہ سے فارغ التحصیل ہیں۔ یہ علما سرکاری اسکولوں میں ملازمت کے ساتھ مساجد میں امامت و خطابت کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ:

  1. ڈیوٹی کے بغیر سرکاری تنخواہ لینا حلال ہے؟
  2.  اگر یہ تنخواہ حلال نہیں تو کیا ایسے شخص کی عبادت قبول ہوگی؟
  3.  کیا ایسے علما جو ڈیوٹی کے بغیر تنخواہ لیتے ہیں، ان کے پیچھے نماز ہوجاتی ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(1)۔۔۔ سرکاری ملازمین حکومت کے اجیرِ خاص ہوتے ہیں، اور اس وقت اجرت (تنخواہ) کے مستحق ہوتے ہیں جب وہ صحیح طریقے سے ڈیوٹی کریں اور ڈیوٹی کا پورا وقت اپنے کام کو دیں۔ اگر وہ کام کی جگہ پر حاضر ہو کر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے تو ان کے لیے تنخواہ لینا جائز نہیں، سخت حرام ہے۔

سوال میں ذکر کردہ طرزِ عمل کئی گناہوں کا مجموعہ ہے، مثلا معاہدے کی پاسداری نہ کرنا، امانت میں خیانت کرنا، جھوٹ بولنا، رشوت دینا اور حرام تنخواہ لینا۔ ان میں سے ہر ایک گناہِ کبیرہ ہے جس کا وبال بہت شدید ہے۔ اس لیے ایسے افراد یا تو صحیح طریقے سے ملازمت کا حق ادا کریں، ڈیوٹی کا پورا وقت اپنے کام کو دیں، جتنی کوتاہی ہو اس کے بقدر تنخواہ کی کٹوتی کرائیں، یا پھر ملازمت چھوڑ کر اپنے دوسرے کاموں میں مصروف ہوجائیں۔

(2)۔۔۔ حرام مال کھانے کے بارے میں قرآن اور احادیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں، مثلا حرام کھانے، پینے اور پہننے والے کی دعا قبول نہ ہونا، حرام مال استعمال کرنے تک نماز (یعنی عبادت) قبول نہ ہونا اور حرام مال سے پلنے والے جسم کا جنت میں داخل نہ ہونا اور جہنم کا اس کے زیادہ مستحق ہونا۔

(3)۔۔۔ ایسے افراد کے پیچھے اگرچہ نماز ہوجاتی ہے، لیکن انہیں اپنے اختیار سے امام بنانا مکروہِ تحریمی ہے۔ اس لئے حتی الامکان نماز کسی صحیح العقیدہ  متبع ِسنت اور کبائر سے بچنے والے امام کی اقتداء میں ادا کرنی چاہیے ، لیکن اگر ایسا امام میسر نہ ہو تو اکیلے نماز پڑھنے کے بجائے مسجد میں باجماعت نماز پڑھنا بہتر ہے، مسجد کی جماعت کی احادیث میں بہت تاکید آئی ہے، اس سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔

حوالہ جات

صحيح مسلم (2/ 703):

عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أيها الناس إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين فقال: "يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم" ! وقال: "يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم". ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر يمد يديه إلى السماء يا رب يا رب ومطعمه حرام ومشربه حرام وملبسه حرام وغذي بالحرام فأنى يستجاب لذلك.

مسند أحمد - الرسالة (10/ 24):

عن ابن عمر قال من اشترى ثوبا بعشرة دراهم وفيه درهم حرام لم يقبل الله له صلاة مادام عليه، قال: ثم أدخل أصبعيه في أذنيه ثم قال صمتا إن لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم سمعته يقوله.

المستدرك - الهندية (4/ 127):

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ….. يا كعب بن عجرة إنه لا يدخل الجنة لحم نبت من سحت، النار أولى به……. الخ

تبيين الحقائق (5/ 137):

الأجير الخاص يستحق الأجرة بتسليم نفسه للعمل عمل أو لم يعمل. سمي أجيرا خاصا وأجيرَ وحدٍ؛ لأنه يختص به الواحد، وهو المستأجر، وليس له أن يعمل لغيره؛ لأن منافعه في المدة صارت مستحقة له، والأجر مقابل بها، فيستحقه ما لم يمنعه من العمل مانع حسي كالمرض والمطر ونحو ذلك مما يمنع التمكن من العمل.

المجلة (ص: 82):

مادة 425: الأجير الخاص يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل، ولا يشترط عمله بالفعل، ولكن ليس له أن يمتنع من العمل، وإذا امتنع فلا يستحق الأجرة.

الدر المختار (1/ 560-559):

( ويكره )…….( إمامة عبد ) ولو معتقا قهستاني . عن الخلاصة ، ولعله لما قدمناه من تقدم الحر الأصلي ، إذ الكراهة تنزيهية فتنبه ( وأعرابي ) ومثله تركمان وأكراد وعامي ( وفاسق وأعمى ) ونحوه الأعشى نهر ( إلا أن يكون ) أي غير الفاسق ( أعلم القوم ) فهو أولى.

رد المحتار (1/ 560):

قوله ( وفاسق ) من الفسق، وهو الخروج عن الاستقامة، ولعل المراد به من يرتكب الكبائر، كشارب الخمر والزاني وآكل الربا ونحو ذلك، كذا في البرجندي إسماعيل……. وأما الفاسق فقد عللوا كراهة تقديمه بأنه لا يهتم لأمر دينه وبأن في تقديمه للإمامة تعظيمه وقد وجب عليهم إهانته شرعا، ولا يخفى أنه إذا كان أعلم من غيره لا تزول العلة، فإنه لا يؤمن أن يصلي بهم بغير طهارة، فهو كالمبتدع تكره إمامته بكل حال، بل مشى في شرح المنية على أن كراهة تقديمه كراهة تحريم لما ذكرنا. قال: ولذا لم تجز الصلاة خلفه أصلا عند مالك ورواية عن أحمد، فلذا حاول الشارح في عبارة المصنف، وحمل الاستثناء على غير الفاسق والله أعلم.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

      13/ ذو القعدۃ/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب