| 80307 | طلاق کے احکام | عدت کا بیان |
سوال
کیا عورت خلع کی عدّت کے دوران جاب(ملازمت) کرسکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ عدت ِطلاق میں بیٹھی ہوئی عورت کیلئے عذرِ شرعی (جیسے غیر معمولی بیماری میں چیک اپ کے لئے ڈاکٹر کے پاس جاناہو یا گھر کے منہدم ہونے کا خطرہ ہو وغیرہ)کے بغیرگھر سے نکلنا جائزنہیں ہے،اسی طرح کسبِ معاش کے لئے بھی اجازت نہیں کیونکہ مطلقہ کاخرچہ عدت میں شوہر کے ذمہ لازم ہے۔البتہ اگر معاش کا کوئی انتظام نہ ہو، اور ملازمت سے رخصت بھی نہ ملے، تو ایسی مجبوری کی حالت میں ملازمت کے لیے جاسکتی ہے، واضح رہے کہ جیسے ضرورت پوری ہوتوفوری طورپرگھرواپس آئے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) 3/ 536
(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه۔
(الفتاوى الهندية (1/ 557
المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان۔
محمدمصطفیٰ رضا
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
13/ذو القعدہ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مصطفیٰ رضا بن رضا خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


