| 80295 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان ِکرام اس مسلئے کے بارےکہ :
میرے شوہر سفیر احمد نے بیرونِ ملک سے فون پر مجھے دو مرتبہ یہ الفاظ کہے’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ‘‘، اس کے بعد ہمارے درمیان زبردستی کا تعلق قائم رہا میں سب کو بتاتی رہی لیکن کسی میری بات پر یقین نہیں کیا ۔اس کے بعد ۲۰۱۶ ءمیں ہمارے دوسرے بچے کی پیدائش ہوئی اور ۲۰۱۷ ءمیں جب میرے شوہر گھر آئے ہوتھےتو ایک دن لڑائی کے دوران میرے شوہر کہا کہ میں تمہیں طلاق دے چکا ہوں میرے گھر سے نکل جاؤ اور تین دفعہ پھر طلاق کے الفاظ استعمال کیے۔اور ۲۰۲۳ ءمیں تیسرے بچے کی پیدائش ہوئی ، پھر ۱۸اٹھارہ فروری ۲۰۲۳ءکو فون پر شوہر نےفون پر مجھے کہا کہ میں تمیں چالیس مرتبہ طلاق دے چکا ہوں اور اس فون کال کی ریکارڈنگ بھی میرے پاس موجود ہے لیکن اب وہ قسمیں اٹھا کر انکار کر رہا ہے کہ میں نے نہیں بولا۔
وضاحتیں:مذکورہ معاملہ پر زوجین کی طرف سے دی گئ معلومات درجِ ذیل ہیں۔
بیوی کی طرف سے وضاحت:
· میرے شوہر نے مختلف اوقات میں تین سے زائد بار مجھےطلاق کے الفاظ کہیں ہیں اور اس بات پر میری ایک بہن اور دس سال کی چھوٹی بچی گواہ ہے۔
· میرے شوہرنے بیرون ِ ملک سے فون پر دو مرتبہ طلاق کے الفاظ کہے تھے اور اس کے تقریبا دو سال بعد پاکستان واپس آئے اور درمیان میں کوئی رجوع نہیں کیا۔
شوہر کی طرف سے وضاحت:
· میں نے صرف دو مرتبہ آزاد کا لفظ کہا اور اسی پر میں نے فتوی بھی لیا ہے۔
· مجھے کسی فتوی کی ضرورت نہیں ہے اب ویسے بھی میں اپنی بیوی کو چھوڑنے کا فیصلہ کر چکا ہوں۔
· بیوی کی طرف سے بھیجی گئ ریکارڈنگ ہماری ہی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جب طلاق کے معاملے میں زوجین کے درمیان اختلاف ہوجائے،بیوی طلاق کا دعویٰ کررہی ہوجب کہ شوہر اس کا انکار کرے تو اس صورت میں بیوی چونکہ مدعیہ ہے اس لیے اسے اپنے دعویٰ پر دو گواہ پیش کرنا ضروری ہے،اور گواہ دومرد یا ایک مرداور دو عورتیں ہونے چاہیئں۔ اگر بیوی گواہوں کو پیش کرنے سے عاجز ہو تو شوہر اپنا دعویٰ کو قسم اٹھا کر ثابت کرے یا طلاق کا اقرار کرے، یہ قضاء کا حکم ہے۔
دیانت کے لحاظ سے صورتِ مسئولہ کا حکم یہ ہے کہ چونکہ شوہر نے مختلف اوقات میں تین سے زائد مرتبہ بیوی کے لیے طلاق کے الفاظ استعمال کیے ہیں جو بیوی نے خود سنے ہیں اور بیوی کی طرف سےبھیجی گئ ریکارڈنگ کے مطابق شوہر نے اس بات کا اقرار بھی کیا ہے کہ ’’میں چالیس سے زائد مرتبہ تمہیں طلاق دے چکا ہوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ‘‘۔
لہٰذا مذکورہ صورت میں بیوی پر دیانۃًتین طلاقیں واقع ہو کرحرمتِ مُغلظہ ثابت ہوچکی ہے،دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے،اب رجوع بھی جائز نہیں ہےاور دوبارہ نکاح بھی موجودہ حالت میں جائز نہیں، تین طلاق کے بعد دونوں کا ساتھ رہنا بالکل ناجائز اور حرام ہے،دونوں پر لازم ہے کہ فوراً علیحدہ ہوجائیں اور اتنے عرصے تک بغیر نکاح کے ساتھ رہنے پر اللہ کے حضور خوب توبہ و استغفار کریں۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (5/ 313)
وكذلك إن سمعت أنه طلقها ثلاثا وجحد الزوج ذلك وحلف فردها عليه القاضي لم يسعها المقام معه، وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه.
المبسوط للسرخسي (6/ 133)
أن من أقر بطلاق سابق يكون ذلك إيقاعا منه في الحال؛ لأن من ضرورة الاستناد الوقوع في الحال، وهو مالك للإيقاع غير مالك للإسناد.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 356)
(فإن اختلفا في وجود الشرط) أي ثبوته ليعم العدمي (فالقول له مع اليمين) لإنكاره الطلاق،
الدر المختار للحصفكي (3/ 462)
(سمعت من زوجها أنه طلقها ولا تقدر على منعه من نفسها) إلا بقتله (لها قتله) بدواء خوف القصاص، ولا تقتل نفسها.وقال الاوزجندي ترفع الامر للقاضي، فإن حلف ولا بينة فالاثم عليه، وإن قتلته فلا شئ عليها.
عدنان اختر
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
13؍ذی القعدہ ؍۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عدنان اختر بن محمد پرویز اختر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


