03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر،تین بھائی اورچھ بہنوں میں تقسیم میراث
80299میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہماری بہن نسرین جہاں زوجہ محمود احمد فاروقی کاانتقال 2014 میں ہوا،ان کی کوئی اولاد نہیں ہے،انہوں نے وارثین میں شوہر،تین بھائی،اور چھ بہنیں چھوڑی ہیں،ان کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نسرین جہاں نے  فوت ہوتے وقت  ترکہ میں جو کچھ چھوڑا  تھا وہ سب ورثہ میں شرعی طور پر تقسیم ہوگا،جس کی صورت یہ ہے کہ تمام مال واسباب کی قیمت لگائی جائے،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر اس نے وارث کے علاوہ کسی اورکےلیے وصیت کی ہوتو مال کی تہائی میں سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال  ورثہ میں تقسیم کیاجائے، میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی:

1۔ شوہرکو 50 فیصد حصہ  ملے گا۔

2۔  ہر بھائی کو8.333فیصد حصہ ملے گا۔

3۔ ہر بہن کو 4.166فیصد حصہ ملے گا۔

حوالہ جات

وفي الھندیۃ(1/161):

 یجب الکفن علی الزوج وإن ترکت مالاً وعلیہ الفتویٰ۔

الفتاویٰ التاتارخانیۃ(3/31):

ویکفن المیت من جمیع مالہ قبل الوصایا والدیون والمواریث، ومن لم یکن لہ مال فکفنہ علی من یجب لہ نفقتہ، إلا المرأۃ  فإنہ لا یجب کفنہا علی زوجہا عند محمد، خلافاً لأبي یوسف، فإن عندہ یجب علیہ الکفن وإن ترکت مالاً ، وفي الکبریٰ: وبہ یفتی۔ 

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

14/ذیقعدہ1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب