| 80332 | طلاق کے احکام | صریح طلاق کابیان |
سوال
ایک شخص کی موبائل پر اپنی بیوی سے تلخ کلامی ہوئی، موبائل کال بندہونے کے بعد اس مذکورہ شخص نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہے کہ طلاق ہو ،طلاق ہو ،طلاق ہو، مذکور ہ الفاظ تین مرتبہ کہے گئے ،برابر میں بیٹھےایک دوست نے اس شخص سے کہا : کیا کہہ رہے ہو ؟ہوش میں ہو؟ طالق نے کہا :میں اپنی چھوٹی بیوی کو کہہ رہا ہوں، اس نے تنگ کر رکھا ہے،جس سے فون پر لڑائی ہورہی تھی۔ واضح رہے کہ مطلقہ تین ماہ کی حاملہ ہے،اب سوال یہ ہے کہ اس شخص نے اپنی بیوی کو ان صریح الفاظ کے ساتھ تین طلاق دی، كيا طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟ اگر ہوئی تو کتنی طلاق واقع ہوئیں؟ نیز ان الفاظ کے کہنے سے نیت کی ضرورت ہے یا نہیں؟دوسراسوال یہ ہے کہ حاملہ عورت کو طلاق ہو جاتی ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور كے اپنی بیوی کو تین مرتبہ "طلاق ہو، طلاق ہو، طلاق ہو" کے الفاظ کہنے سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اور نکاح ختم ہو چکا ہے، لہذافی الحال رجوع اور فریقین کے درمیان دوبارہ نکاح بھی شرعاً نہیں ہو سکتا، البتہ اگر عورت عدت گزارنے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ اس کے ساتھ ہمبستری بھی کرے، پھر وہ شخص اپنی مرضی سے طلاق دیدے یا وہ فوت ہو جائے تو اُس شخص کی عدت گزارنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، ورنہ نہیں۔
نیزصریح الفاظ سے دی گئی طلاق میں نیت کی ضرورت نہیں، بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، اسی طرح حالتِ حمل میں بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، اس لیے مذکورہ صورت میں دی گئی تینوں طلاقیں شرعاً واقع اور نافذ ہو چکی ہیں۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5261) دار طوق النجاة:
حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن
عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم:
أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»
صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5264) دار طوق النجاة:
وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.
الاختيار لتعليل المختار (3/ 152) دار الكتب العلمية – بيروت:
وألفاظه صريح وكناية، فالصريح لا يحتاج إلى نية مثل قوله: لا أقربك، لا أجامعك، لا أطؤك، لا أغتسل منك من جنابة.
الفتاوى الهندية (1 / 473) دار الفكر، بیروت:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
13/ذوالقعدة 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


