03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لڑکے کی طرف سے دیے جانے والے سامان کا مالک کون ہو گا؟
80334نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

شادی میں لڑ کے کی طرف سے جو کچھ سامان بر تن گھر کے استعمال کے لئے بیڈ،الماری وغیرہ دیا گیا تھا، اس سامان کا اصل مالک کون ہے؟ مطلقہ یاموجود شخص؟

وضاحت:سائل نے بتایا کہ یہ بلوچ خاندان کا مسئلہ ہے، ان کے خاندان میں جہیز لڑکا دیتا ہے اور لڑکی کو م اس جہیز کا مالک سمجھا جاتا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

لڑکی کو لڑکے والوں کی طرف سے شادی کے موقع پر جو زیور اور جہیز وغیرہ دیا جاتا ہے، اس کا حکم عرف پر موقوف ہے، یعنی اگرفریقین کے عرف میں جہیز وغیرہ لڑکی کو مالک بنا کر دیا جاتا ہو تو اس صورت میں ان سب چیزوں کی مالک لڑکی ہے، ورنہ لڑکا مالک ہو گا۔ اور سوال میں ذکر کی گئی وضاحت کے مطابق سائل کے عرف میں ان سب چیزوں کا مالک لڑکی کو سمجھا جاتا ہے، اس لیے فریقین کے درمیان علیحدگی ہو جانے کے بعد لڑکی والوں کا جہیز اور دیگر سازوسامان کا مطالبہ کرنا درست ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 153) دار الفكر،بيروت:

قال في النهر: وأقول وينبغي أن لا يقبل قوله أيضا في الثياب المحمولة مع السكر ونحوه للعرف. اهـ. قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة،

فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضا.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 157) دار الفكر،بيروت:

والمعتمد البناء على العرف كما علمت

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 158) دار الفكر،بيروت:

كل أحد يعلم الجهاز للمرأة إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

13/ذوالقعدة 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب