| 80333 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
مذکور شخص نے نکاح فارم پر ایک شرط لکھی تھی کہ رخصتی سے پہلے ایک عد د پلاٹ نواب شاہ میں اور چار تولہ سونا دوں گا،لیکن مذکورہ شخص نے پلاٹ نہیں دیا ہے، موجودہ صورتحال میں یہ شرط پوری کرنا مذکورہ شخص کے ذمہ لازم ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطورِ تمہید جاننا چاہیے کہ قرآن كريم اور احادیثِ مبارکہ میں وعدہ پورا کرنے کی بہت تاکید کی گئی ہے، اسی طرح حدیثِ پاک میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو معاملات میں جائزشروط کی پاسداری کرنے کا بھی حکم دیاہے۔چنانچہ مشہور امام عبدالرزاق رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ ایک روایت نقل کی ہے کہ ايك شخص نے كسی عورت سے نكاح كيا اور یہ شرط لگائی کہ وہ اس سے نکاح کرنے کے بعد کسی اور عورت سے نکاح نہیں کرے گا، نہ ہی کسی خاتون کو بطورِ باندی اپنے پاس رکھے گا اور نہ ہی اس کو اس کے گھر والوں کی طرف منتقل کرے گا، یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو آپ نے اس سے فرمایا کہ میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ اب تو اس کے بعد نہ کسی سے نکاح کرنا، نہ کسی عورت کوبطورِباندی اپنے پاس رکھنا اور نہ اپنی بیوی کو اس کے گھر والوں کی طرف منتقل کرنا۔
مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہوا کہ کہ نکاح کے وقت لگائی گئی جائز شروط کا شریعت نے اعتبار کیا ہے، لہذا نکاح نامہ میں لکھی گئی مذکورہ شرط شرعاً معتبر ہے، کیونکہ اس شرط کی حیثیت وعدہ کی ہے اور وعدہ کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر وعدہ کسی شرط کے ساتھ معلق ہو تو اس کو پورا کرنا شرعا لازم ہوتا ہےاورنکاح کے وقت نکاح نامہ میں لکھی گئی شرائط درحقیقت عقدِ نکاح کی شرط کے ساتھ معلق ہوتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ نکاح کرنے والے شخص نے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ اگر مذکورہ خاتون نے مجھ سے نکاح کر لیا تو میں اس کو ایک عدد پلاٹ اور چار تولہ سونا دوں گا، لہذا جب نکاح کا انعقاد ہو گیا تو اس شرط کو پورا کرنا دیانتاً اور قضاءً اس کے ذمہ لازم ہو گیا، اس لیے شخصِ مذکور پر لازم ہے کہ وہ نکاح نامہ میں لکھی گئی شرائط کے مطابق ایک عدد پلاٹ اور چار تولہ سونا عورت کے حوالے کرے، اگر وہ نہیں دے گا تو شرعاً عورت کو قانونی چارہ جوئی کرنے کا حق حاصل ہے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم[الإسراء: 34]
{ وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا }
صحيح البخاري (3/ 92) دار طوق النجاة:
وقال ابن سيرين: " إذا قال: بعه بكذا، فما كان من ربح فهو لك، أو بيني وبينك، فلا بأس به " وقال النبي صلى الله عليه وسلم: «المسلمون عند شروطهم»
مصنف عبد الرزاق (6/ 227، رقم الحدیث: 10609) المكتب الإسلامي، بيروت:
أخبرنا عبد الرزاق قال أخبرنا معمر قال حدثني يحيى بن أبي كثير أن رجلا تزوج امرأة وشرط لها أن لاينكح عليها ولا يتسرى ولا ينقلها إلى أهلها فبلغ ذلك عمر فقال عزمت عليك إلا نكحت عليها وتسريت وخرجت بها إلي أهلك.
سنن سعيد بن منصور (1/ 212، رقم الحديث: 665) الدار السلفية – الهند:
حدثنا سعيد قال: نا خالد بن عبد الله، عن عمر بن قيس الماصر، قال: شهدت شريحا وأتاه رجل وقال: إني رجل من أهل الشام، فقال: «مرحبا بالبقية» قال: إني تزوجت امرأة، فقال: «بالرفاء والبنين»
قال: شرطت لها دارها، قال: «المسلمون عند شروطهم» قال: اقض بيننا، قال: «قد فعلت»
مجلة الأحكام العدلية (ص: 26) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:
(المادة 84) المواعيد باكتساب صور التعاليق تكون لازمة.
الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 247) دار الكتب العلمية، بيروت:
ولا يلزم الوعد إلا إذا كان معلقا كما في كفالة البزازية، وفي بيع الوفاء كما ذكره الزيلعي.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
13/ذوالقعدة 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


