03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خالہ کی وراثت کی تقسیم
80394میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میری خالہ کی ایک دوکان ہے جو میری خالہ اور خالو کے نام پر ہے دونوں کا انتقال ہوگیا ہے ان کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ خالو کے ماں باپ ،بہن بھائی کوئی نہیں ہے ،جب کہ  خالہ کے ماں باپ کا انتقال ہوگیا ہے۔ خالہ کے دو بھائی اور آٹھ بہنیں جن میں سے دونوں بھائیوں اور تین بہنوں کا انتقال ان کی زندگی میں ہو گیا تھا ۔ابھی خالہ کی پانچ بہنیں موجود ہیں اور جو بھائی بہن انتقال کرگئے ان کے بچے موجود ہیں ،ان سب میں وراثت کس طرح تقسیم ہوگی۔

وضاحت: سائل کی خالہ سرکاری ٹیچر تھیں، اپنی  پنشن سے انہوں نے دوکان خریدی تھی اور اپنے اور شوہر دونوں کے نام کروا لی تھی، البتہ دوکان کرایے پر دینے کے بعد کرایہ وہ خود لیتی تھیں اور گھریلو ضروریات میں استعمال کرتی تھیں۔ خالہ کا انتقال پہلے ہوا تھا، ان کے انتقال کے 28 دن بعد خالو کا بھی انتقال ہوگیا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی بھی چیز کو ہبہ (گفٹ) کرنے کے لیے ضروری ہے  کہ واہِب (ہبہ کرنے والا) موہوبہ چیز (جس چیز کا ہبہ کیا جارہاہے)  کو موہوب لہ (جس کو ہبہ کررہا ہے) کے نام کرنے کے ساتھ اس کا مکمل  قبضہ اور تصرف بھی دے ،اور ہبہ کے وقت موہوبہ چیز سے اپنا تصرف مکمل طور پر ختم کردے۔

صورتِ مسئولہ میں آپ کی خالہ  نے اپنی ملکیتی مذکورہ دکان کا آدھا حصہ  خالو کے صرف نام کیا تھا ،خالو کو مالکانہ قبضہ اور تصرف نہیں دیاتھا، بلکہ دکان کا ماہانہ کرایہ بھی خالہ خود وصول کرتی تھیں، تو ایسی صورت میں خالو کے حق میں ہبہ

( گفٹ) درست اور مکمل نہیں ہوا، لہذا مذکورہ دکان بدستور  خالہ ہی کی ملکیت میں رہی،خالہ  کے انتقال کے بعد مذکورہ دکان خالہ کا  ترکہ شمارہوگی،اور تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔

مرحومہ نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں  سونا، چاندی،نقدی، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب ان کا ترکہ یعنی میراث ہے ۔اس سے متعلق حکم یہ ہے  کہ اگر ان  کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ترکہ میں سے سب سے پہلے ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر انہوں  نے کسی غیر ِوارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی(1/3) ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد جو بچ جائے اس کے 35 حصے کر کے درج ذیل نقشے کے مطابق ورثاء میں تقسیم کر دیا جائے۔

مذکورہ  بالا ورثاء کے ہوتے ہوئےبھائیوں کے بیٹے(بھتیجے) وراثت میں حصے دار نہیں ہونگے، بھتیجے عصبہ بنتے ہیں، عصبہ کو  ذوی الفروض سے بچ جانے والا حصہ دیا جاتا ہے۔ مذکورہ سوال میں وراثت ذوی الفروض(شوہر اور بہنوں) میں مکمل تقسیم ہوگئی ہے۔

واضح رہےکہ  مسئولہ صورت میں اگرچہ خالو بھی آپ کی خالہ کی میراث میں حصے دار ہیں ،مگر جب  ان کی کوئی اولاد ہے،نہ ہی والدین اور بھائی بہن، تو  ایسی صورت میں حکم یہ ہے کہ ان کے قریبی یا دور کے کسی بھی وارث کو ڈھونڈا جائے، اگر کسی  کا علم نہ ہوسکے ( نہ ددہیال میں سے، نہ  ننہیال میں سے)، تو ایسے میں  ان کے سارے مال کا مستحق وہ ہوگا جس کے لیے انہوں نے موت کے بعد سارے مال کی وصیت لکھی ہو۔ اور اگر انہوں نے کسی کے لیے وصیت بھی  نہیں لکھی تو ایسے میں اصل حکم تو  ایسے مال کو  بیت المال کے انتظام میں دینے کا ہے، لیکن آج کل  فساد کی وجہ سے یہ بہتر ہے کہ ایسے شخص کے  مال کو فقراءمیں تقسیم کر دیا جائے۔

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

شوہر(زوج)

15  حصے

42.8571% (نصف)

بہن 1   

4 حصے

11.4285% (ثلثان)

بہن   2

4 حصے

11.4285% (ثلثان)

بہن 3

4 حصے

11.4285% (ثلثان)

بہن 4

4 حصے

11.4285%

(ثلثان)

بہن 5

4 حصے

11.4285% )ثلثان)

 کل

35 حصے

 %  100

 

حوالہ جات

{فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَك} [النساء: 11]

{وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَد} [النساء: 12]

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 762):

و المستحقون للتركة عشرة أصناف مرتبة كما أفاده بقوله: (فيبدأ بذوي الفروض) أي السهام المقدرة وهم اثنا عشر من النسب ثلاثة من الرجال وسبعة من النساء واثنان من التسبب وهما الزوجان (ثم بالعصبات) أل للجنس فيستوي فيه الواحد والجمع وجمعه للازدواج (النسبية) لأنها أقوى (ثم بالمعتق) ولو أنثى وهو العصبة السببية(ثم عصبته الذكور) لأنه ليس للنساء من الولاء إلا ما أعتقن (ثم الرد) على ذوي الفروض النسبية بقدر حقوقهم (ثم ذوي الأرحام ثم بعدهم مولى الموالاة) كما مر في كتاب الولاء وله الباقي بعد فرض أحد الزوجين ذكره السيد (ثم المقر له بنسب) على غيره (لم يثبت) فلو ثبت بأن صدقه المقر عليه أو أقر بمثل إقراره أو شهد رجل آخر ثبت نسبه حقيقة وزاحم الورثة وإن رجع المقر وكذا لو صدقه المقر له قبل رجوعه وتمامه في شروح السراجية سيما روح الشروح وقد لخصته فيما علقته عليها (ثم) بعدهم (الموصى له بما زاد على الثلث) ولو بالكل وإنما قدم عليه المقر له لأنه نوع قرابة بخلاف الموصى له (ثم) يوضع (في بيت المال) لا إرثًا بل فيئًا للمسلمين."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 338)

"رابعها الضوائع مثل ما لا ... يكون له أناس وارثونا."

"(قوله: ورابعها فمصرفه جهات إلخ) موافق لما نقله ابن الضياء في شرح الغزنوية عن البزدوي من أنه يصرف إلى المرضى والزمنى واللقيط وعمارة القناطر والرباطات والثغور والمساجد وما أشبه ذلك. ......وأما الرابع فمصرفه المشهور هو اللقيط الفقير والفقراء الذين لا أولياء لهم فيعطى منه نفقتهم وأدويتهم وكفنهم وعقل جنايتهم كما في الزيلعي وغيره.

وحاصله: أن مصرفه العاجزون الفقراء ".

محمد فرحان

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

22/ذو القعدہ/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فرحان بن محمد سلیم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب