03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ملازم کا پیشگی اطلاع دیے بغیر تنخواہ کاٹنے کے جواز کی صورت
80484اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

عرض یہ ہے کہ احباب دارالافتاء جامعۃ الرشید نے بعنوان " بغیر اطلاع ملازمت چھوڑنے پر تنخواہ کاٹنے کا حکم"   پر ایک فتویٰ (61281)مرحمت فرمایا تھا۔ اس فتوے کی روشنی میں ہم نے اپنے ادارےکے "معاہدہ ملازمت " میں اس عنوان کے ذیل میں  کچھ ترامیم کی ہیں۔(معاہدہ ملازمت کی کاپی استفتاء کے ساتھ لف ہے) 

5.2 After confirmation, you may terminate this employment agreement and resign by giving (30) thirty days' notice in writing. In case you do not give (30) thirty days' notice then you are liable to provide an acceptable substitute to the company, whose salary shall be paid by you, and if you don't provide an alternative you hereby authorize company to hire a substitute employee designate in your replacement whose one-month salary (that must not exceed your current gross salary) shall be compensated by you. Company may terminate, without assigning any reason, the employment agreement by (30) thirty days' notice or forthwith, without notice, by paying (30) thirty days' gross salary in lieu thereof.

معاہدے کی شق نمبر5.2 کے مطابق ملازم کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ اپنی ملازمت کی توثیق (Confirmation)  کے بعد جب چاہے معاہدہ ملازمت سے 30 دن قبل تحریری اطلاع    (Notice Period) کے ساتھ مستعفی ہوسکتا ہے ، اگر ملازم یہ مدت پوری کرنے سے قاصر ہو تو اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے متبادل کا انتظام کرے جس کی تنخواہ اس کے اپنے ذمہ ہوگی البتہ اس کی مکمل تنخواہ اس کو ادا کردی جائے گی۔ تاہم اگر ملازم متبادل بھی نہ پیش کرسکا تو یہ اس بات کی علامت سمجھی جائے گی کہ ملازم نے متبادل کا انتظام کرنے کی ذمہ داری کمپنی کے سپرد کردی ہے اور کمپنی اس متبادل کی تنخواہ (جو کہ اصل ملازم کی مجموعی تنخواہ سے زیادہ نہ ہو) اصل ملازم کی تنخواہ سے  ادا کرے گی ۔جب کہ اصل ملازم کو تنخواہ نہیں دی جائے گی۔

مقصد اس شق سے ملازم کو بغیر اطلاع ملازمت چھوڑنے پر تنبیہ کرنا ہے اور یہ تنبیہ اسی وقت ہوسکتی ہے جب کہ اس کی تنخواہ سے کٹوتی ہو ،لہذامتبادل پیش نہ کرنے کی صورت میں  ملازم کی تنخواہ سے کٹوتی کرلی جائے گی  خواہ  نئے ملاز م  کی تقرری فوری ہو (سابقہ ملازم کے نوٹس پیریڈ میں) یا  بعد میں اورکٹوتی شدہ تنخواہ سے نئے ملازم کی تنخواہ ادا کی جائے گی۔مفتیانِ کرام سے گز ارش ہے کہ ہماری اس پالیسی کو شرعی نقطہ نظر سے پرکھ کر رہنمائی فرمائیں کہ آیا ہماری یہ پالیسی شرعی اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں؟اگریہ پالیسی درست نہیں تو مذکورہ فتویٰ میں ذکر کردہ صورت کی عملی تکییف   کی کیا صورت بنے گی؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 اجارہ کا معاملہ ختم کرنے کے سلسلہ میں فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ اس میں فریقین کی رضامندی یا قاضی کا فیصلہ ہونا ضروری ہے، اس کے بغیراجارہ کے معاملہ کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اگر کسی فریق کو کوئی معتبر عذر لاحق ہو اور اجارہ کے معاملہ کو ختم کرنا اس کی  مجبوری ہو تو ایسی صورت میں دوسرے فریق کی رضامندی کے بغیربھی اجارہ کے معاملہ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔نیز فقہائے کرام رحمہم اللہ نے تعزیر مالی کے عدمِ جواز کی بھی صراحت کی ہے اور بعض حضرات نے اس مسئلہ پر اجماع کا قول بھی نقل کیا ہے، اس لیے ملازم کے بغیر کسی وجہ کے بھی ملازمت چھوڑجانے کی صورت میں اس پر کسی قسم کا مالی جرمانہ یا اس کی تنخواہ سے کٹوتی کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔

جہاں تک گزشتہ فتوی(نمبر:61281) میں ذکر کی گئی متبادل صورتوں کا تعلق ہے تو اصل متبادل پہلی صورت ہی ہے، جس میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ ملازم ایک ماہ پیشگی اطلاع نہ دینے کی صورت میں ایک ماہ اضافی کام کرنے کا پابند ہو گا، خواہ وہ خود کام کرے یا کسی دوسرے سے کروائے، اس صورت میں گزشتہ ملازم کو اس مہینے کی پوری تنخواہ دی جائے گی۔

گزشتہ فتوی میں ذکر کی گئی دوسری صورت میں کچھ ابہام باقی رہ گیا ہے، وہ یہ کہ ایک ماہ اضافی کام کرنے کے لیے جب کمپنی اپنی طرف سے ملازم مقرر کرے گی تو اس کی تنخواہ کے لیے سابقہ ملازم کی گزشتہ مہینے کی تنخواہ نہیں روکے گی، جیسا کہ فتوی کی عبارت کےظاہر سے معلوم ہوتا ہے، بلکہ اسی رواں مہینے میں سابقہ ملازم کو کام کرنے پر جو تنخواہ ملنا تھی وہی تنخواہ موجودہ ملازم کو دی جائے گی۔ اور اس صورت میں ظاہر ہے کہ کمپنی ملازم سے اختیار نہ بھی لے تو بھی اس کو نیا ملازم رکھ کر سابقہ ملازم کو دی جانے والی تنخواہ اس کو دینے کی شرعاً اجازت ہے، کیونکہ سابقہ ملازم اجارہ کا معاملہ ختم ہونے کی وجہ سے تنخواہ کا حق دار نہیں رہا۔

یہ بھی یاد رہے کہ اگر ملازم نے کسی معتبر وجہ کی بنیاد پر اجارہ کا معاملہ ختم کیا اور اس نے کمپنی/ادارے کے سامنے معتبر ذرائع سے اپنا عذر بھی پیش کر دیا تو ایسی صورت میں ملازم کو شرعاً ایک ماہ اضافی کام کرنے کا پابند نہیں بنایاجا سکتا، ایسا کرنے سے کمپنی گناہ گار ہو گی۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 76) دار الفكر-بيروت:

باب فسخ الإجارة: تفسخ بالقضاء أو الرضا.

قال ابن عابدين الشامي :(قوله تفسخ) إنما قال: تفسخ؛ لأنه اختار قول عامة المشايخ وهو عدم انفساخ العقد بالعذر وهو الصحيح نص عليه في الذخيرة، وإنما لم ينفسخ لا لإمكان الانتفاع بوجه آخر؛ لأنه غير لازم.

سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط (3/ 430) دار الرسالة العالمية:      

حدثنا عبد ربه بن خالد النميري أبو المغلس، حدثنا فضيل بن سليمان، حدثنا موسى بن عقبة، حدثنا إسحاق بن يحيى بن الوليدعن عبادة بن الصامت: أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قضى أن لا ضرر ولا ضرار.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

25/ذوالقعدة 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب