| 80520 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ؛
مندرجہ ذیل سوالات سے متعلق فتویٰ درکار ہے کہ آج کے معاشرے میں بچوں کی تربیت کے لئے کن ہدایات پر سختی سے عمل کرنا چاہیے؟
- لڑکی کو کس عمر تک لڑکوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کھیلنے کودنے کی اجازت ہوگی؟
- اگر کھیلنے کی اجازت ہے تو کون کون سے کھیل کھیل سکتے ہیں؟ بچے کا بچی کو اٹھانا چھپن چھپائی کھیلنا ، عرض اس طرح کے کھیل کیسے ہیں؟
- معاشرے کی نزاکت کو مد نظر رکھتے ہوئے جب اپنے اکابر پر نظر جاتی ہے تو ان کی طرف تو بچی کو 5 سال کی عمر سے ہی غیروں سے پردہ کروالیا جاتا تھا۔ لیکن آج کے معاشرے میں ہم بچی کو کس طرح تربیت دیں۔ لوگ کہتے ہیں ابھی سے اس کو گھر بٹا دیا ہے ایک آپ ہی نرالی تربیت کر رہی ہیں؟ تو اس متعلق راہ نمائی فرمائیں۔
- ہم بھی دین کے مطابق تربیت کرنا چاہتے ہیں ۔ اسلاف کے والدین ہی کی قربانی سے ہمیں حکیم الامت اور رشید ثانی جیسے اسلاف ملے ۔ ہمیں بھی ایسے اپنی اولاد چاہیے ۔ اس کے لیے کیا کوشش کی جائے ؟
- دو سال کی بچی والدہ کے بغیر کہیں جائے جہاں 6 سے 7 سال کی عمر کے بچے ہوں وہاں وہ کھیلیں ، کس حد تک گنجائش ہے؟ کیا بچی کو والدہ کے بغیر اس طرح بھیجنا مناسب ہے؟ کیوں کہ میرا خیال ہے جو نظر ایک والدہ بچی پر رکھتی ہے تربیت میں وہ کوئی اور نہیں رکھ سکتا۔ اصلاح فرمائیں۔
- بچی کو کیسا ماحول دیا جائے ؟ 2 سال کی بچی کی دینی تربیت کے لیے کیا امور اہم ہیں؟
- اگر ایسا ماحول ہو جس میں بچہ بد تمیزی کی زبان سیکھے تو کیا کریں جس سے اپنے بچے کو ان چیزوں سے دور رکھیں ؟ اتنی اچھی تربیت کرتے کرتے سب پہ پانی پھر جاتا ہے جب کوئی دوسرا بندہ آکر کسی جانور کا خوف دل میں ڈال رہا ہو یا پھر کوئی بچہ اپنی عادتوں اور باتوں سے ان کے اندر غلط باتیں ڈال رہا ہو۔ مفصل فتویٰ درکار ہے تاکہ بچی کو اسلام کے اصولوں کے مطابق پروان چڑھایا جائے ۔
- نیز بچوں کی ذہنی و جسمانی دینی و اصلاحی تربیت کے حوالے سے جو کتب ہوں تو ان کی بھی راہنمائی کی طالبہ ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوالات کے جوابات سے پہلے چند باتیں ذہن نشین کرلیں کہ لڑکی کی بلوغت کی کم سے کم عمر نو سال ہے، نو سال پورے ہونے کے بعد جب بھی بلوغت کی کوئی علامت لڑکی میں ظاہر ہوجائے تو وہ بالغ سمجھی جائے گی، لیکن اگر پندرہ سال عمر پوری ہونے کے باوجود کوئی علامت ظاہر نہ ہو تو پھر پندرہ سال مکمل ہوتے ہی لڑکی بالغ شمار کی جائے گی اور اس پر بلوغت والے تمام احکام نافذ ہوجائیں گے۔
بچیوں کی پرورش کرتے ہوئےبچپن سے ہی ان کی عادات و اطوار پر خصوصی توجہ دی جانی ضروری ہے۔ بچپن سے ہی بچیوں کو مکمل لباس پہننے، گھر میں رہنے اور گھر کے معمولات میں والدین کا ہاتھ بٹانے کی تربیت دی جائے۔ ان کے کھیلنے کودنے کے لیے گھر کی چار دیواری کے اندر انتظام موجود ہو۔ بچیاں صرف اپنی ہم عمر بچیوں کے ساتھ کھیلیں کودیں اور بچپن سے ہی انہیں تربیت دی جائے کہ لڑکوں کے ساتھ ان کا ہاتھ ملانا، ساتھ مل کر بیٹھنا اور کھیلنا کودنا درست نہیں۔ بچیوں کی تربیت کرتے ہوئے ماؤں کو خاص طور پر انہیں مستقبل کی اچھی بیویاں اور مائیں بنانے کا ہدف ذہن میں رکھنا چاہیے۔
عزت وعصمت کی حفاظت کرنا ہر لڑکی کا اپنا اور ان کی والدین کا سب سے بڑا فریضہ ہے۔ بچیوں کو اپنی آواز دھیمی رکھنے، ستر ڈھانپنے، سلیقے سے چلنے پھرنے اور ایک باعزت اور باکردار خاتون بننے کی تربیت دینا والدین بالخصوص ماؤں کی ذمہ داری ہے۔ بچیوں کو محرم اور نامحرم کا تصور دیں اور غیر محرموں سے مناسب فاصلے پر رہنے کی تربیت بھی کریں۔ بچیوں کو اعتماد دیں کہ کوئی اجنبی شخص ان سے کوئی بھی بات کرے تو وہ گھر آکر ضرور بتائیں۔ اسکول میں، محلے میں یا کسی بھی جگہ پر کسی انہونی بات کو ضرور بتائیں۔ گھر میں ٹی وی، موبائل اور لیپ ٹاپ وغیرہ پر دیکھی جانے والی سائٹس کی بھی نگرانی کریں۔ بچیوں کو گھر سنبھالنے، شوہر کی اطاعت گزار بننے، ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے اور شاکر رہنے کی تربیت دی جائے۔ اس کے علاوہ کن کاموں کے لیے لڑکیاں گھر سے نکل سکتی ہیں؟ کیا کام کرسکتی ہیں؟ لوگوں سے میل جول کس حد تک رکھ سکتی ہیں؟ اس حوالے سے مناسب رہ نمائی والدین کی اولین ذمہ داری ہے۔
بچپن میں بچہ کے دل کی تختی چونکہ صاف شفاف ہوتی ہے۔ پھر جیسے ماحول میں بچہ کی نشوونما ہوتی ہے ایسے ہی اثرات اس کے دل ودماغ پر نقش ہوجاتے ہیں اور عام طور سے اسی پر اس کی آئندہ زندگی کی تعمیر ہوتی ہے لہٰذا مربی کے لئے ضروری ہے کہ وہ بچے کے لئے خوشگوار ماحول مہیا کریں شریر بچوں سے الگ رکھیں گھریلو زندگی میں بھی کوئی نامناسب بات یا غیرمہذب حرکت بچہ کے سامنے نہ کریں، حرکات وسکنات میں بھی سنجیدگی ومتانت ہو، بول چال میں پیار ومحبت اور تنبیہ میں توازن اور اعتدال قائم رہنا چاہئے، تہذیب و شائستگی کا خیال رکھے، چونکہ غیر محسوس طریقہ پر تمام چیزیں بچہ کے اندر منتقل ہوتی ہیں،اور وہ جس طرح کوئی کام دیکھتا یا کوئی بات سنتا ہے، عملاً اس کو اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے، بچہ کی اخلاقیات پر بھی خاص توجہ دی جائے، محبت میں اس کی عادتیں بگڑنا شروع ہوجاتی ہیں، شریعت مطہرہ نے ہر موقعہ پر اعتدال کی تعلیم دی ہے۔
یہ بھی ذہن میں رہنا چاہئے کہ بچہ بہرحال بچہ ہوتا ہے اس کو ہر ہر بات میں اتنا محتاط اور حساس بنادینا کہ وہ اپنی فطری عادتوں اور جائز شرارتوں کو بھی گناہ سمجھنے لگے اور اپنے عمل اور گفتگو سے کوئی بزرگ محسوس ہویہ اس کے بچپن کے ساتھ زیادتی ہے، بڑے ہوکر ایسے بچوں کے جذبات پر یا تو ایک پژمردگی سی آجاتی ہے، یا بچپن کی محرومیوں کا جوانی میں تدارک کرتا ہے جو زیادہ خطرناک ہے، اس لئے اخلاق وعادات کی اصلاح کے ضمن میں اعتدال اور توازن بہت ضروری ہے۔ مربی اس کا بھی خیال رکھے کہ ہمہ وقت بچہ کو ڈانٹ ڈپٹ یا فہمائش نہ کرتا رہے کہ اس سے یقینا وہ بجائے مانوس ہونے کے متوحش ہوجاتا ہے، بلکہ فرمانِ رسول صلى الله عليه وسلم من لم یرحم صغیرنا الخ (جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں) کو ملحوظ رکھ کر اُنس ومحبت کے ساتھ اس کی جائز ضد بھی پوری کی جائے۔
اچھی تربیت کے لیےبچوں کو نیک لوگوں کے واقعات سنائے جائیں، ان کی مائیں ان کی دینی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں، علماء صلحاء کی مجالس میں شریک کیا جائے یا انہیں اچھی کتابیں پڑھائی جائیں یا اور کوئی جائز طریقہ اختیار کیا جائے۔
الحاصل تربیت کا مسئلہ بڑا نازک ہوتا ہے، اس کے کچھ ضابطے، قوانین یا کچھ لکیریں مقرر نہیں کہ ان کو سامنے رکھ کر تربیت کی جاتی رہے، بلکہ تربیت کے طریقے، احوال ومواقع نفسیات وجذبات اور خیالات کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہیں، جتنے بچے والدین کی زیرتربیت ہیں، یا جس قدر طلبہ یا مریدین استاذ وشیخ کے یہاں حلقہ بگوش ہیں ہر ایک کے مزاج وعمر کے لحاظ سے تربیت کرنا لازم ہے، سب کو ایک لکڑی سے نہ ہانکا جائے۔ محسن انسانیت، مربیٴ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی باب تربیت میں جو تعلیمات ہیں اور آپ کے جانثار صحابہ کرام رضوان الله تعالى عليهم اجمعين کی تربیت کا عملی نمونہ مربی حضرات کے لئے مشعل راہ ہیں، طریق نبوی کے مطابق جو تربیت کی جائے گی بلاشبہ وہ باعث خیروبرکت ہوگی اور اس کے نمایاں اثرات مشاہدہوں گے۔ انشاء اللہ۔
اب بالترتیب سوالات کے جوابات ملاحظہ فرمائیں:
- لڑکی چھوٹے بچوں کے ساتھ کھیل سکتی ہے، بلوغت سے پہلے بھی اور بعد میں بھی، البتہ قریب البلوغ اور بالغ لڑکوں کے ساتھ بلوغت کے بعد کھیلنا ناجائز و حرام ہوگا۔
- کوئی بھی ایسا کھیل جس سے تربیت پر برا اثر پڑتا ہو اس سے بچی کو منع کرنا ضروری ہوگا۔
- تفصیل بالا کے مطابق شرعی حدود کے اندر بچے کی تربیت پر توجہ دینا چاہیے لوگوں کی باتوں کی طرف کان نہ دھریں۔
- بالا تفصیل کے مطابق تربیت کی کوشش کریں۔
- اگر کھیل سےبچی کی تربیت میں کوئی اخلاقی خرابی نہ پیدا ہوتی ہو تو دو سال کی بچی نابالغ چھوٹے بچوں کے ساتھ کوئی بھی کھیل کھیل سکتی ہے۔ البتہ ماں کی تربیتی نگاہ ہر وقت بچی پر رہنا بہت اہم ہے۔
- شروع میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی جائے۔
- جواب تفصیل میں ذکر کردیا گیا ہے۔
- بچی کو ہر اس شخص یا مجلس سے دور رکھا جائے جدھر بچی کے اخلاقی اور تربیتی بگاڑ کا اندیشہ ہو۔
- اچھی تربیت کے لیےبچوں کو نیک لوگوں کے واقعات سنائے جائیں، علماء صلحاء کی مجالس میں شریک کیا جائے اور سیرت نبی ﷺاور صحابہ پر معتبر مصنفین کی کتب کا مطالعہ کروایا جائے۔چند ایک کتابوں کے نام ذکر کیے جاتے ہیں۔
سیرت المصطفے، تین جلدوں پر مشتمل مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ (المتوفی:1974 ء) کی ہے۔
نشر الطیب فی ذکرالحبیب: ایک جلد پر مشتمل مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ (المتوفی:1943 ء) کی ایک معتبر اور مستند کتاب ہے جسے "العطور المجموعہ" بھی کہا جاتا ہے۔
النبی الخاتم: ایک جلد پر مشتمل مولانا سید مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ (المتوفی:1956 ء) کی سیرت نبوی پر والہانہ انداز میں لکھی گئی کتاب ہے۔
"رحمۃ للعالمین" قاضی سلیمان منصورپوری رحمہ اللہ (پیدائش: 1867ء– وفات: 30 مئی 1930ء) کی تین جلدوں پر مشتمل کتاب ہے، جس کی تعریف و توصیف مولانا علی میاں رحمہ اللہ نے بھی کی ہے۔
حوالہ جات
مسند أحمد (27/ 274)
16717 - حدثنا عبد الله حدثنا نضر بن علي الجهضمي وعبد الأعلى بن حماد أبو يحيى النرسي قالا حدثنا عامر بن أبي عامر الخزاز قال حدثنا أيوب بن موسى عن أبيه عن جده قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما نحل والد ولدا أفضل من أدب حسن
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 153)
(بلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال) والأصل هو الإنزال (والجارية بالاحتلام والحيض والحبل) ولم يذكر الإنزال صريحا لأنه قلما يعلم منها (فإن لم يوجد فيهما) شيء (فحتى يتم لكل منهما خمس عشرة سنة به يفتى) لقصر أعمار أهل زماننا(وأدنى مدته له اثنتا عشرة سنة ولها تسع سنين) هو المختار كما في أحكام الصغار
تفسير الجلالين (ص: 752)
{يَا أَيّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسكُمْ وَأَهْلِيكُمْ} بِالْحَمْلِ عَلَى طَاعَة اللَّه {نَارًا وَقُودهَا النَّاس} الْكُفَّار {وَالْحِجَارَة}
تفسير ابن كثير ت سلامة (8/ 167)
قال سفيان الثوري، عن منصور، عن رجل، عن علي، رضي الله عنه، في قوله تعالى: {قوا أنفسكم وأهليكم نارا} يقول: أدبوهم، علموهم.
وقال علي بن أبي طلحة، عن ابن عباس: {قوا أنفسكم وأهليكم نارا} يقول: اعملوا بطاعة الله، واتقوا معاصي الله، ومروا أهليكم بالذكر، ينجيكم الله من النار.
وقال مجاهد: {قوا أنفسكم وأهليكم نارا} قال: اتقوا الله، وأوصوا أهليكم بتقوى الله. .
وقال قتادة: يأمرهم بطاعة الله، وينهاهم عن معصية الله، وأن يقوم عليهم بأمر الله، ويأمرهم به ويساعدهم عليه، فإذا رأيت لله معصية، قدعتهم عنها وزجرتهم عنها.
وهكذا قال الضحاك ومقاتل: حق على المسلم أن يعلم أهله، من قرابته وإمائه وعبيده، ما فرض الله عليهم، وما نهاهم الله عنه.
وفي معنى هذه الآية الحديث الذي رواه الإمام أحمد، وأبو داود، والترمذي، من حديث عبد الملك بن الربيع بن سبرة، عن أبيه، عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "مروا الصبي بالصلاة إذا بلغ سبع سنين، فإذا بلغ عشر سنين فاضربوه عليها" (1) .
هذا لفظ أبي داود، وقال الترمذي: هذا حديث حسن.
وروى أبو داود، من حديث عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده عن النبي صلى الله عليه وسلم مثل ذلك (2) .
قال الفقهاء: وهكذا في الصوم؛ ليكون ذلك تمرينا له على العبادة، لكي يبلغ وهو مستمر على العبادة والطاعة ومجانبة المعصية وترك المنكر، والله الموفق.
عنایت اللہ عثمانی
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
28/ذی قعدہ/ 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


